خطبات محمود (جلد 19) — Page 850
خطبات محمود ۸۵ ۳۹ سال ۱۹۳۸ ء وو دشمن کی گالیوں کا جواب شرافت اور احسان سے دو نیز خدمت دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرو فرموده ۲ دسمبر ۱۹۳۸ء ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : - ” میرے پاس گزشتہ ایام میں ان اشتہارات کے خلاف نفرت کے اظہار کے خطوط آئے ہیں جو کچھ عرصہ ہوا مصری صاحب کے ساتھ تعلق یا ہمدردی رکھنے والوں اور احرار کے ساتھ تعلق یا ہمدردی رکھنے والوں کی طرف سے اس علاقہ میں اور باہر پنجاب میں بھی تقسیم کئے گئے ہیں ۔ میں اُس غیرت کی قدر کرتا ہوں جس کا اظہار ان دوستوں یا جماعتوں نے کیا ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں ان اشتہارات میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ایک فائدہ مخفی رکھا ہوا ہے ۔ شروع شروع میں جب مصری صاحب نے خط و کتابت شروع کی ہے تو اُنہوں نے بہت ہی غصہ کا اظہار اس امر پر کیا تھا کہ مجھے کہا جاتا ہے تم گالیاں دیتے ہو حالانکہ میں تو کوئی گالی نہیں دیتا اور ہماری جماعت کے کئی دوست جو ایسے امور میں مذبذب ہو جانے کے عادی ہیں وہ بھی کہنے لگ گئے تھے کہ آخر وہ کیا گالیاں ہیں جو وہ دیتے ہیں اور جب کہ وہ گالیاں دینے سے انکار کرتے ہیں تو یہ کیونکر تسلیم کیا جائے کہ واقع میں اُنہوں نے کوئی گالی دی ہے۔ مگر اب ہائیکورٹ کے ایک فیصلہ میں وہ الفاظ نقل ہو گئے ہیں جو میرے متعلق انہوں نے عدالت میں کہے اور اب