خطبات محمود (جلد 19) — Page 842
خطبات محمود ۸۴۲ سال ۱۹۳۸ ء تو بھی مرنے کے بعد گھر کے برتن یا دوسرا سامان گرو رکھ کر کفن کا انتظام نہ کرنا پڑے گا۔ یہ اتنی موٹی بات ہے۔ مگر شاید میرے بیان میں کوئی نقص ہے یا جماعت کے سمجھنے میں کہ ابھی تک جماعت میں یہ بات پیدا نہیں ہو سکی ۔ کہ اچھی طرح یاد رکھو کہ سادہ زندگی اس تحریک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے اس میں غریبوں کا امیروں کی نسبت زیادہ فائدہ ہے کیونکہ وہ جو کچھ جمع کریں گے اپنی ضرورت کیلئے کریں گے اور اسی طرح امراء کو بھی اس سے فائدہ ہے اگر کوئی مصیبت کا وقت آجائے تو اس وقت پس انداز کیا ہوا اسرمایہ ان کے کام آئے گا۔ پس میں آج پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ سادہ زندگی کا مطالبہ تحریک جدید کے اہم مطالبات میں سے ایک ہے ۔ اس کا اقتصادی پہلو اور مذہبی سیاسی پہلو دونوں بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔ اگر ہم اس کے ذریعہ غریب اور امیر کے فرق کو کسی حد تک مٹانے اور مساوات کی اس روح کو جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ ایک عظیم الشان کام ہوگا ، جو لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں ، کھربوں روپیہ سے زیادہ قیمتی ہے، بلکہ دنیا کی تمام دولت سے زیادہ بیش قیمت ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کھانے کے متعلق بالعموم احباب جماعت نے پابندی کی ہے،لباس کے متعلق کچھ حصہ نے کی ہے مگر کچھ حصہ نے نہیں کی ۔ بعض کے متعلق تو مجھے معلوم ہے کہ انہوں لكه نے چندے زیادہ لکھوا لکھوا دئے اور پھر دو دو و تین تین سال تک کوئی کپڑے نہیں بنوائے ائے ۔ ۔ خود میرا بھی یہی حال ہے کہ کل ہی ایک عجیب اتفاق ہوا۔ جس پر مجھے حیرت بھی آئی ۔ ایک دوست ملنے آئے اور انہوں نے ایک تحفہ دیا کہ فلاں دوست نے بھیجا ہے وہ ایک کپڑے کا تھان تھا اس کے ساتھ ایک خط تھا جس میں اس دوست نے لکھا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ آئے ہیں اور کہا ہے کہ قمیضوں کیلئے کپڑے کی ضرورت ہے بازار سے لا دو۔ اس پر میں نے دریافت کیا کہ آپ صاف کپڑا پسند کرتے ہیں یا دھاری دار؟ آپ نے اس کا کوئی جواب لفظوں میں تو نہیں دیا، لیکن میرے دل پر یہ اثر ہوا کہ دھاری دار آپ کی پسند نہیں اور اس خواب کو یا، چین میرے دل پر یہ اتر ہوا پورا کرنے کے لئے میں یہ کپڑا بھیجتا ہوں ۔ میں نے وہ تھان لا کر گھر میں دیا کہ کسی نے بھیجا ہے