خطبات محمود (جلد 19) — Page 839
خطبات محمود ۸۳۹ سال ۱۹۳۸ ء بچت کا خیال کریں اور اتنی تبدیلی اخراجات میں کر لیں کہ ایک آنہ ماہوار ہی بچا لیں تو انہیں بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ایسے غریب لوگ بھی ہوتے ہیں جن کا آٹھ آنے نہ ہونے کی وجہ سے کوئی کام رکا رہتا ہے۔ ایسے غریب بھی ہوتے ہیں جن کا کام کسی وقت بارہ آنے یا روپیہ پاس نہ ہونے کی وجہ سے رک جاتا ہے اور جو شخص روپیہ یا دو روپیہ ماہوار کی بچت کر سکے وہ بھی اس کے لئے بہت مفید ہو سکتی ہے کیونکہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو دس، بارہ یا بیس پچیس روپے نہ ہونے کی وجہ سے اپنا کام نہیں چلا سکتے اور اگر وہ روپیہ دو روپیہ ماہوار بچاتے جائیں تو چونکہ ان کی ضرورتیں بھی اسی کے مطابق ہوتی ہیں اس لئے یہ بچت بھی ان کے لئے مفید ہوتی ہے۔ ہر شخص کے کام اور اسکی ضرورت کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ کسی کا کام آٹھ آنے نہ ہونے کی وجہ سے رک جاتا ہے تو کسی کا دس ہزار نہ ہونے کی وجہ سے ۔ پھر ایسے غرباء بھی ہوتے ہیں جو ایک پیسہ کے محتاج ہوتے ہیں ان کیلئے بظاہر اقتصادی زندگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر میں نے ایسے لوگ بھی دیکھتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ایک پیسہ ہو تو کیا اچھا ہو۔ تو ہر شخص کی ضرورت اور اقتصادی پہلو برابر برابر چلتے ہیں ۔ بے شک ایک غریب آدمی کہہ سکتا ہے کہ اگر میں نے دو چار روپے جمع کر بھی لئے تو ان سے کیا ہوتا ہے لیکن اسے خیال رکھنا چاہئے کہ اس کی ضرورتیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں ۔ کئی دفعہ ایسی ضروریات پیش آجاتی ہیں کہ انسان کہتا ہے اس وقت اگر دس روپے پاس ہوتے تو بہت اچھا ہوتا اور اگر وہ بارہ آنہ یا روپیہ ہر مہینہ جمع کرتا رہے تو دوسرے سال دس روپے والی ضرورت جب اسے پیش آئے گی تو اس کا کام چل جائے گا اور اسے کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی ۔ یہ صحیح ہے کہ غریب آدمی اپنی حالت کے مطابق بہت قلیل رقم پس انداز کر سکتا ہے مگر اس کی ضرورتیں بھی تو قلیل ہی ہوتی ہیں۔ تھوڑا تھوڑا کر کے وہ سال میں جس قدر پس انداز کرتا ہے اس کا نہ ہونا کسی وقت اس کی تباہی کا موجب ہو سکتا ہے۔ تھوڑا ہی عرصہ ہوا فیروز پور کا ایک واقعہ اخبارات میں شائع ہوا ہے ۔ کسی زمیندار نے ساہوکار سے پچاس روپے قرض لئے چونکہ اسے ضرورت سخت تھی اس وقت رو پید ا سے ۵۰ ،۶۰ فیصدی شرح سود پر ملا ۔ اس کے بعد اس نے اس قرض کو ادا کرنے کی بہت کوشش کی ۔ مگر چونکہ سود کی شرح بہت زیادہ تھی اس لئے تمہیں روپے بطور سود دینے پڑتے تھے لیکن اس کی آمد اتنی تھی