خطبات محمود (جلد 19) — Page 83
خطبات محمود ۸۳ سال ۱۹۳۸ ء ہے جو باہر کے زمیندار جانتے ہیں ۔ یہاں کے لوگ اپنی ملازمتوں یا تجارتوں میں ہی لگے رہتے ہیں اور چونکہ جمعہ کے روز خطبہ ہو جاتا ہے اور علماء موجود ہیں جو تبلیغ کیلئے باہر جاتے اور یہاں بھی لیکچر بھر دیتے رہتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری طرف سے سے جب جب لڑنے لڑنے والے موجود ہیں تو ہم کو کیا ضرورت ہے کہ مسائل سیکھیں ۔ حالانکہ دین کی لڑائی میں کوئی کسی کی جگہ نہیں لڑسکتا ۔ دنیا کی لڑائی میں تو تنخواہ دار ملازم آقا کی جگہ لڑ سکتے ہیں مگر دین کے معاملہ میں نہیں ۔ دین میں ہر ایک کیلئے ضروری ہے کہ تبلیغ کرے ورنہ وہ علم سے بھی کورا رہے گا اور وَمَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ في الأخيرة اعمی سے جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے وہ اگلے جہاں میں بھی اندھا رہے گا۔ اگر کوئی شخص نورا سلام اور علم دین سے واقف نہیں تو وہ قیامت کے روز اندھا ہوگا ۔ یا درکھو کہ علم سے ہی نور پیدا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کو نو رفرمایا ہے ۔ کے جس میں بینت من الهدی اور فرقان کے ہے اور جسے نور ہدایت معلوم نہیں ، اسلام کے غلبہ کے دلائل کا علم نہیں اسے خدا تعالیٰ سے محبت کیسے پیدا ہو سکتی ہے اور جس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت نہ ہو وہ اسے مل کیسے سکتا ہے۔ اور یہ قدرتی بات ہے کہ جو شخص تبلیغ کیلئے باہر نکلے گا اسے علمی مسائل کے متعلق کرید پیدا ہو گی اور علم دین کی طرف وہ زیادہ توجہ کرے گا۔ جو شخص جس پیشہ سے تعلق رکھتا ہے اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزوں کی طرف وہ زیادہ توجہ کرتا ہے ۔ کوئی ترکھان اگر کسی جگہ سے گزر رہا ہو اور کوئی گیلی پڑی ہوئی ہو تو اس کی نظر فوراً اس کی طرف جائے گی ۔ کسی لوہار کو راستہ میں گھوڑے کا کوئی سم ہی گرا ہوا ملے تو وہ اسے اٹھا کر رکھ لے گا۔ لیکن دوسرے لوگ گزریں تو ان کا خیال بھی اس طرف نہیں جائے گا۔ شہری لوگ کھیتوں میں سے گزر جائیں تو کچھ خیال نہ کریں گے لیکن ایک زمیندار گزرے تو وہ یہ سوچتا جائے گا کہ اس میں سے اتنے من گندم نکلے گی اور اس میں سے اتنے من کیونکہ یہ اس کا کام ہے اور اس کی طرف اس کی توجہ ہے ۔ اسی طرح جب انسان تبلیغ کرنے لگے تو قدرتی طور پر اس کی توجہ تعلیم دین کی طرف ہوگی ۔ کوئی اعتراض کرے یا نہ کرے وہ خود بخود سوچے گا اور اس طرح اس کا اپنا نور معرفت بڑھتا رہے گا اور پھر اس طرح خدا تعالیٰ سے اس کی محبت ترقی کرے گی ۔ پس جمعہ میں دوسرا سبق یہ سکھایا گیا ہے کہ تبلیغ کرو۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان کا اپنا علم بڑھتا ہے۔