خطبات محمود (جلد 19) — Page 814
خطبات محمود الد سال ۱۹۳۸ ء بیدار ہوں انہیں اور زیادہ بیدار کرتا رہتا ہوں تا کہ وہ بھی کسی وقت سست نہ ہو جائیں ۔ پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ان لوگوں کو جو سست ہیں چست اور ہوشیار بنائیں اور جو چست ہیں انہیں وقتی مؤمنوں کی صف سے نکال کر کامل الایمان لوگوں کے ساتھ شامل کریں اور اگر ہم ایسا کریں تو یقیناً ہم دوہرے ثواب اور دوہرے اجر کے مستحق ہو نگے لیکن اگر ہم اپنے اس فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کریں تو ہم یہ کہہ کر ہرگز بری نہیں ہو سکتے کہ ہم تو بچ گئے ہیں۔ خدا تعالیٰ ہم سے پوچھے گا کہ تم تو بے شک بچ گئے لیکن جن اور لوگوں کو بچانا تمہاری طاقت میں تھا ان کو تم نے کیوں نہیں بچایا۔ میں تحریک جدید کے دور ثانی میں مستقل کام کی داغ بیل ڈالنے کیلئے مالی تحریک کے علاوہ کہ وہ بھی مستقل ہے ایک مستقل جماعت واقفین کی تیار کر رہا ہوں ۔ دور اول میں میں نے کہا تھا کہ نو جوان تین سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں مگر دور ثانی میں وقف عمر بھر کیلئے ہے اور اب یہ واقفین کا ہر گز حق نہیں کہ وہ خود بخود کام چھوڑ کر چلے جائیں ہاں ہمیں اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ اگر ہم انہیں کام کے نا قابل جائیں تو انہیں الگ کر دیں ۔ پس یہ سہ سالہ واقفین نہیں بلکہ جس طرح یہ دور مستقل ہے اسی طرح یہ وقف بھی مستقل ہے ۔ اس دور میں کام کی اہمیت کے پیش نظر میں نے یہ شرط عائد کر دی ہے کہ صرف وہی نوجوان لئے جائیں گے جو یا تو گریجوایٹ ہوں یا مولوی فاضل ہوں اور جو نہ گریجوایٹ ہوں اور نہ مولوی فاضل انہیں نہیں لیا جائے گا کیونکہ ان لوگوں نے علمی کام کرنے ہیں اور اس کے لئے یا تو دینی علم کی ضرورت ہے یا دنیوی علم کی ۔ اس دور میں تین چار آدمیوں کو منہا کر کے کہ وہ گریجوایٹ نہیں کیونکہ وہ پہلے دور کے بقیہ واقفین میں سے ہیں باقی سب یا تو گریجوایٹ ہیں یا مولوی فاضل ہیں ۔ چنانچہ اس وقت چار گریجوایٹ ہیں اور چا رہی مولوی فاضل ہیں ۔ کل غالباً بارہ نوجوان ہیں ۔ چاران میں سے غیر گریجوایٹ ہیں مگر ہیں سب ایسے ہی جو اللہ تعالی کے فضل سے محنت سے کام کرنے والے اور سلسلہ سے محبت رکھنے والے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ جس رنگ میں یہ کام کر رہے ہیں ۔ سے اس کے ماتحت یہ ان علمی کاموں کو سر انجام دے دیں گے جو علمی کام میرے مد نظر ہیں ۔ کو سرانجام گے جو علمی کام میرے مد نظر ہیں ۔ - میرا ارادہ ہے کہ اس جماعت کا پہلا دور 24 نوجوانوں پر مشتمل ہو کیونکہ کام کے لحاظ سے