خطبات محمود (جلد 19) — Page 804
خطبات محمود ٠٧لد سال ۱۹۳۸ ء بعض نادان اپنی جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے ہمیشہ ایسے موقع پر قادیان کا حوالہ دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں آئندہ تو جو ہو گا سو ہو گا ابھی آپ کو قادیان میں تھوڑ اسا غلبہ حاصل ہے اور آپ نے اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوؤں اور سکھوں سے لین دین پر پابندی عائد کر رکھی ہے حالانکہ میں نے بار ہا بتایا ہے کہ یہ پابندی محض بعض فسادات سے بچنے کی وجہ سے عائد کی گئی ہے ورنہ ہم قادیان سے باہر ہر جگہ ہندوؤں اور سکھوں سے لین دین رکھتے ہیں ۔ گو یہ قدرتی بات ہے کہ انسان اپنی قوم کو ترجیح دیتا ہے اور ہم بھی تجارتی لین دین میں ایک مسلمان کہلانے والے کو فائدہ پہنچانا پسند کرتے ہیں لیکن بہر حال ہمارا ہندوؤں اور سکھوں سے کوئی مقاطعہ نہیں ہوتا اور ہم ان سے کھلے طور پر لین دین رکھتے ہیں ۔ قادیان میں اگر یہ پابندی عائد ہے تو صرف دفاعی طور پر ور نہ ہم نے ان کا مقاطعہ اب بھی نہیں کیا ہوا بلکہ ایسے ہندو اور سکھ جو ہماری ناواجب مخالفت نہیں کرتے ان سے ہمارا لین دین قادیان میں بھی جاری ہے اور میں قادیان کی حالت کو بھی جیسا کہ اشارہ کر چکا ہوں جلد سے جلد بدلنا چاہتا ہوں اور یہاں کے قوانین میں بھی اصلاح کرنا چاہتا ہوں ۔ لیکن میری عادت ہے کہ جب دشمن کی تلوار سر پر لٹک رہی ہو تو اس وقت میں اس کی بات نہیں مانا کرتا اور مجھے افسوس ہے کہ جب کبھی یہاں کے بزرگوں نے مجھ سے صلح کرنے کی کوشش کی ہے تو ہمیشہ ایسی صورت میں کہ پہلے کوئی ہم پر مقدمہ کرا دیا یا فساد کھڑا کرا دیا اور پھر چاہا کہ ہم سے سمجھوتہ کر لیں حالانکہ میں ایسے مواقع پر سمجھوتہ نہیں کیا کرتا میں ہمیشہ ایسے موقع پر ہی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار ہوا کرتا ہوں جب میرا ہاتھ دینے والا ہو اور ان کا ہاتھ لینے والا ہو لیکن جب کوئی ڈنڈا لے کر میرے سر پر آچڑھے اور کہے کہ مجھ سے صلح کرو تو پھر میں اس کی بات نہیں مانا کرتا ۔ مجھے تعجب آتا ہے کہ میری عمر پچاس سال کے قریب ہونے کو آ گئی ،صرف چند ماہ اس میں باقی ہیں اور میں تمام عمر اس قادیان میں رہا ، یہیں پیدا ہوا، یہیں بڑھا، یہیں جوان ہوا اور یہیں پچاس سال کی عمر تک پہنچا مگر اب تک یہاں کے ہندوؤں اور سکھوں نے میری طبیعت کو نہیں سمجھا۔ کی عمرتک میری طبیعت یہ ہے اور یہی طبیعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی تھی بلکہ دینی لحاظ سے