خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 793 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 793

خطبات محمود ۳۷ سال ۱۹۳۸ ء تحریک جدید کے دور ثانی میں زیادہ جدو جہد کی ضرورت ہے وو فرموده ۱۸ نومبر ۱۹۳۸ ء ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - جیسا کہ میں گزشتہ خطبات میں بیان کر چکا ہوں تحریک جدید کا دور اول صفائی کی مثال رکھتا تھا۔ اس کی غرض یہ تھی کہ دشمنوں نے احمدیت پر جو حملہ کیا تھا اس کا ازالہ کیا جائے اور دشمن کی حقیقت کو دنیا پر ظاہر کیا جائے ۔ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کوشش میں اللہ تعالیٰ نے پنے فضل سے ہم کو عظیم الشان کامیابی عطا فرمائی ہے۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی مخالفت دو گروہوں کی طرف سے ہو رہی تھی ، گو شامل سارے ہی تھے مگر خصوصیت کے ساتھ ایک تو احرار مخالفت کر رہے تھے اور دوسرے حکومت کا وہ حصہ جو اندرونی طور پر برطانیہ کے دشمنوں کا ہمدرد تھا وہ اپنے عہدوں کی آڑ لے کر ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا تھا اس کوشش میں اس نے حکومت کے بعض ہندوستانی یا انگریز افسروں کو بھی جھوٹی سچی شکایتیں کر کے اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ احرار کا انجام جو ہوا وہ سب پر ظاہر ہے۔ خدا تعالیٰ نے ان کی ذلت کے ایسے سامان مہیا کر دیئے کہ اب وہ مسلمانوں میں خود آزادی سے تقریر بھی نہیں کر سکتے ۔ کئی سال تو ایسی حالت رہی کہ لاہور میں احرار کا جلسہ ہونا نا ممکن ہو گیا وہ جلسہ کرتے اور لوگ شور مچا دیتے ابھی تک بہت جگہ ان کی یہی حالت ہے گو وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت واپس لینے کے لئے اب کئی قسم کے بہانے بنانے لگ گئے ہیں ۔ کہیں فلسطین کے مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی کے دعوے کرتے ہیں