خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 737 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 737

خطبات محمود ۷۳۷ سال ۱۹۳۸ ء مزید تربیت کی ضرورت نہیں بے وقوفی ہے ۔ اسی طرح قوموں کی ترقی کے ابتدائی دور کی تربیت پر قیاس کر کے یہ نتیجہ نکالنا کہ دوسرے دور میں بھی مزید عمل کی ضرورت نہیں نادانی ہے۔ نبی کے زمانہ میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نلکی لگا دی جاتی ہے اور اس کے ذریعہ معجزات و نشانات کی خوراک قوم کو اس طرح مل جاتی ہے جس طرح بچہ کو ماں کے پیٹ میں خوراک ملتی ہے لیکن اگر بچہ کے دوسرے دور میں بھی ہم پہلی مثال پر قائم رہیں گے اور کہیں گے کہ جس طرح پہلے خدا تعالیٰ بچے کو کھلاتا رہا اسی طرح اب بھی کھلائے اور جس طرح پہلے سردی گرمی سے بچاتا رہا اسی طرح اب بھی بچائے ہمیں کیا ضرورت ہے کہ اس کی غذا کا فکر کریں یا اسے کپڑے بنا کر دیں تو یقیناً ہم اس کی ہلاکت کا باعث ہوں گے ۔ دیکھو ماں جب تک بچہ اس کے پیٹ میں ہو تو براہ راست کوئی تربیت بچہ کی نہیں کر سکتی مگر دوسرے دور میں کرسکتی ہے ۔اسی طرح قوم جب دوسرے دور میں آتی ہے تو سخت قوانین اور کڑوی دوائیوں کی اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک بچہ ماں کے پیٹ میں تھا جہاں وہ کسی چیز کا ( انکار نہیں کر سکتا تھا ) وہاں وہ اپنی مرض سے کسی چیز کو اختیار نہیں کر سکتا تھا لیکن پیدائش کے بعد اس میں تغیر آتا ہے اور کسی بات کو رد کرنا یا اختیار کرنا اس کی مرضی پر منحصر ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی حال قوم کا ہوتا ہے اسے بھی دوسرے دور میں نئے عمل اور نئی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سخت نادانی کا خیال ہے کہ قوم کی پہلی سی تربیت کیوں نہ ہو کیونکہ یہ ایک طبعی تغیر ہے ۔ اگر بچہ کی پیدائش کے بعد اس کے متعلق یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ اسے کسی نئے قانون کی ضرورت نہیں تو وہ ضرور مرے گا ۔ پس یا د رکھو کہ وہ تغییرات جن پر میں اس وقت زور دے رہا ہوں وہ ضروری ہیں کیونکہ اب تھا اور نہ ہماری جماعت اعت پر وہ پہلا دور نہیں ۔ جبکہ تواتر سے معجزات اور نشانات کا سلسلہ جاری تھا اب وہ زمانہ ہے جسے خدا تعالیٰ نے لیلۃ القدر قرار دیا ہے اور جس کے متعلق قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ وہ ہزار ماہ سے بہتر ہے ، اب وہ زمانہ واپس نہیں آسکتا ۔ اس زمانہ میں تربیت خدا خود کرتا تھا اور گلی طور پر باگ ڈور اس کے ہاتھ میں تھی مگر اب دوسرے دور میں وہ انسان کو سکھانا چاہتا ہے کہ وہ اپنی تربیت اپنے ہاتھ میں لے ، اگر یہ زمانہ نہ آئے تو انسانی پیدائش کی غرض یقیناً باطل ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالانْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ا یعنی