خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 713 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 713

خطبات محمود ۷۱۳ سال ۱۹۳۸ ء گویا انسان کی پیدائش کے وقت سے اسے سچ بولنے کی تعلیم دی گئی ہے اور جو سچائی اس طرح سب دنیا میں متفقہ ہو وہ روحانیت کے لئے بطور بنیاد کے ہوتی ہے اور اس کو خدا تعالیٰ نے روحانیت کے لئے ایسا ہی ضروری قرار دیا ہوتا ہے جیسا کہ جسم کے لئے ناک، کان وغیرہ ۔ ہندوستانی ،افغانی ، عرب اور مغربی لوگوں کے لباس میں تو فرق ہو سکتا ہے، زبانوں میں فرق ہو سکتا ہے مگر ناک، کان ، آنکھوں میں کوئی فرق نہ ہوگا ۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ یورپ کے رہنے والوں کے رنگ گورے ہوں مگر آنکھیں ان کی بھی دو ہی ہوں گی ، ان کے بال بھورے ہوں گے مگر یہ نہیں ہوگا کہ ناک سر کے پیچھے ہو یہی چیزیں انسان کی شکل کہلاتی ہیں اسی طرح روحانیت میں بھی بعض باتیں اس کی شکل میں شامل ہیں ۔ جو چیز حضرت آدم کے وقت انسان کو نہیں ملی وہ روحانی جسم کا حصہ نہیں بلکہ زائد نیکی ہے۔ روحانی جسم کو مکمل کرنے والی وہی چیزیں ہیں جو آدم سے لے کر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک ہی رہیں اور ان میں سے ایک سچائی ہے۔ جس طرح آدم سے لے کر اس وقت تک انسانوں نے بہت ترقیات کیں مگر آنکھیں اب بھی دو ہی ہیں اسی طرح کئی عبادات قائم ہوئیں اور کئی منسوخ ہوئیں ، کسی نبی نے شراب کو جائز رکھا اور کسی نے حرام کر دیا، کسی نے نماز کا طریق کوئی بتا یا اور کسی نے کوئی ، مگر اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی کہ ہمیشہ سچ بولنا چاہئے ہر نبی یہی کہتا آیا ہے کہ ہمیشہ سچ بولو۔ پس جو چیز روحانیت کے لئے بمنزلہ آنکھ کے ہے اسے ترک کر کے انسان کبھی روحانی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں وہ جنرل نہیں بن سکتا ۔ گشتی تو شاید وہ کچھ نہ کچھ کر ہی لے مگر جرنیلی نہیں کر سکے گا۔ اسی طرح روحانیت کے میدان کا شہوار لولا لنگڑایا اندھا نہیں ہو سکتا ۔ سچائی روحانیت کے جسم کا حصہ ہے جو اسے چھوڑتا ہے وہ روحانیت کو حاصل نہیں کر سکتا اور جو ایسا سمجھتا ہے وہ فریب خوردہ ہے اور بے وقوفوں کی جنت میں آباد ہے۔ ہماری جماعت کو غور کرنا چاہیئے کہ وہ کونسا وقت آئے گا جب وہ یہ خیال کریں گے کہ ہم اب سچ پر قائم ہو جائیں گے۔ بے شک بعض تم میں سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا یا بعض کہہ سکتے ہیں کہ ہم جب سے احمدی ہوئے ہیں اس وقت سے ہمیشہ سچ بولتے ہیں مگر یہ تو کافی نہیں ۔ سوال تو یہ ہے انی ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ جماعت میں سچائی کے قیام کے لئے تم نے کیا کوشش کی ہے ۔ اگر ہمارے دوست سچائی پر قائم