خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 710 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 710

خطبات محمود ۷۱۰ سال ۱۹۳۸ ء اس کے متعلق بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ دریا میں ہے اور جو وسط میں ہو اس کے متعلق بھی ، اسی طرح جو وصالِ الہی کی پہلی منزل پر ہی ہے اسے وصال تو حاصل ہے لیکن اگر وہ اس پر مطمئن ہو کر بیٹھ گیا ہے تو وہ عاشق نہیں کہلا سکتا ۔ عاشق وہی ہے جو لیتا جائے اور مانگتا جائے ۔ اور جو اسے ملے اسے دل میں جگہ دے اور اس سے فائدہ اٹھائے اور پھر اور مانگتا چلا جائے۔ عشق الہی کی یہی پرکھ ہے کہ پہلی حاصل کر دہ چیز کو اپنے دل میں جگہ دے اور پھر زائد کی درخواست کرے۔ جو شخص پہلی حاصل شدہ سچائی کو اپنے دل میں محبت سے جگہ دیتا ہے اس کا حق ہے کہ اس کے بعد اور ا ہدایت کی درخواست کرے حتی کہ ہر روز مانگتا جائے ۔ بلکہ ہر لمحہ مانگتا جائے ۔ ایسا شخص اس زیادہ طلبی کی وجہ سے روز بروز خدا تعالیٰ کے قریب ہوتا جائے گا لیکن اگر پہلی کو پھینک کر اور مانگتا ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے تھپڑ رسید کیا جائے گا اور خدا تعالیٰ کہے گا کہ نالائق پہلے جو کچھ تجھے دیا گیا ہے اسے تو استعمال کرتا نہیں اور اور مانگتا ہے ۔ پس مؤمن کا فرض ہے کہ وہ دیکھے پہلی سچائی جو اسے ملی ہوئی ہے اسے وہ استعمال کر رہا ہے یا نہیں۔ میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ ایک ادنی نیکی سچ بولنا ہے مگر تم میں سے کتنے ہیں کہ جنہوں نے اس کو اختیار کیا ہوا ہے اور جو اسے بھی اختیار نہیں کرتے اور اھدنا الصراط المستقيم کہتے رہتے ہیں ۔ کیا ان کی مثال اس بچہ کی نہیں جو پہلی حاصل شدہ چیز کو تو پھینک دیتا ہے مگر اور مانگنے لگ جاتا ہے وہ اس نیکی کو تو چھوڑتا ہے اور خدا تعالیٰ سے کہتا ہے کہ مجھے اور دے۔ میں نے کئی بار بتایا ہے کہ سچ بولنا چھوٹی سے چھوٹی نیکی ہے اور اگر ہماری جماعت اسے ہی اختیار کرلے حتی کہ دنیا میں ہر شخص یہ اقرار کرے کہ یہ جماعت سچی ہے اور کوئی احمدی جھوٹ نہیں بول سکتا تو ہمارا یہ ایک عمل ہی دوسرے ہزاروں عیوب کی پردہ پوشی کر سکتا ہے مگر افسوس ہے کہ جماعت نے ابھی یہ بھی تو حاصل نہیں کی ۔ ہزاروں آدمی ابھی ایسے ہیں جو سچ کی تعریف بھی نہیں سمجھتے ۔ پچھلے ہی دنوں میں نے ایک خطبہ پڑھا تھا جو شاید ابھی چھپا ہے یا نہیں مگر ابھی جو میں لاہور گیا تو وہاں ایک دوست ایک واقعہ سنانے لگے کہ فلاں شخص نے یوں جھوٹ بولا گویا یہ کوئی بڑے فخر کی با تھی۔ کیا یہ تب کی بات نہیں کہ پچاس سال سے جماعت کو یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ سچائی ایک قیمتی جو ہر ہے جس کے بغیر کوئی نیکی نہیں ۔ کوئی شخص صبح سے شام تک روزہ رکھے یہ