خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 707 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 707

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ ء سامنے آئیں تو ان سے آواز آتی ہے کہ یہ سچا ہے جب فرہاد کا ذکر آئے تو آواز آتی ہے کہ وہ سچا ہے، خواہ وہ عورتوں کے عاشق تھے مگر عشق میں سچے تھے مگر جب خدا کے اس عاشق کا ذکر ہو تو میرے دل میں اس کے لئے کوئی عزت پیدا نہیں ہوتی ۔ اگر واقع میں یہ خدا تعالیٰ کا عاشق ہوتا تو دنیا کو اس سے متاثر ہونے میں کیونکر انکار ہو سکتا تھا۔ لیلیٰ سے ہماری کوئی رشتہ داری نہ تھی ، شیریں سے کوئی واسطہ نہ تھا پھر کیا وجہ ہے کہ قیس اور فرہاد کے حالات پڑھ کر تو دل پر اثر ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ تو ہمارا ہے مگر اپنے اس خدا سے محبت کرنے والے کے متعلق ہمارے دلوں میں کوئی ٹیس نہیں اُٹھتی اسی وجہ سے کہ اس کی محبت بناوٹی ہے اور حقیقت کے سامنے بناوٹ ٹھہر نہیں سکتی ۔ شیشہ خواہ کتنا بڑا ہو چھوٹے سے چھوٹا ہیرا جو قلم کی نوک پر لگا ہو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے لیکن سچے دل سے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہنے والا فرض کر لونا کام بھی رہے تو بھی وہ بڑی بھاری چیز ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ ہم دیکھیں گے کہ جو سچائی اسے ملی ہوئی ہے اس سے اس نے کیا فائدہ اٹھایا ہے ۔ آخر کوئی نہ کوئی سچائی خدا تعالیٰ نے اسے بتائی بھی تو ہوتی ہے ۔ جب ہم خدا تعالیٰ سے یہ کہتے ہیں کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تو کیا اس وقت تک ہمیں کسی سچائی کا پتہ بھی ہوتا ہے یا نہیں ۔ تو دیکھنا یہ ہوگا کہ اس دعا کے مانگنے والے کے پاس جو سچائی ہے اس سے اس نے کیا فائدہ اٹھایا ہے کہ اور مانگنے کا مستحق ٹھہر جو شخص پہلی عطا کردہ سچائی سے تو فائدہ نہیں اٹھاتا اور مزید مانگتا رہتا ہے اس کی مثال اس بچہ کی سی ہے جس کی جھولی میں پھل پڑے ہیں اور انہیں وہ کھا نہیں سکتا مگر اور مانگتا جاتا ہے۔ اس کا پیٹ تو اتنا چھوٹا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسے بھی نہیں کھا سکتا لیکن حرص کی وجہ سے اس کا مطالبہ بڑھتا جاتا ہے مگر کیا یہ کبھی ہوا ہے کہ بچہ اس طرح مانگتا جائے اور ماں تھالیاں اس کے سامنے رکھتی جائے ۔ وہ اسے اور نہیں دیتی وہ جانتی ہے کہ اس کی خواہش جھوٹی ہے ورنہ جو کچھ اسے دیا جا چکا ہے پہلے اسے کیوں نہیں کھاتا۔ اسی طرح سوال یہ ہے کہ جو شخص اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہتا ہے اس کے پاس پہلے سے کوئی صداقت موجود ہے یا نہیں؟ کیا اسے معلوم نہیں کہ سب مذاہب نے سچ بولنے کا حکم دیا ہے پھر کیا وہ سچ بولتا ہے اگر نہیں تو اس کا اور مانگنا فضول ہے، اور تو اسے ملتا ہے جو پہلی چیز کو ختم کرے، جو پہلی نعمت کو سکے ۔ جو