خطبات محمود (جلد 19) — Page 699
خطبات محمود ۶۹۹ سال ۱۹۳۸ ء ہوئے میں نے کہا تھا کہ دس سال کے اندر دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا ہو گا اور ابھی میری اس بات پر صرف تین سال گزرے ہیں کہ اس تغیر کی علامتیں ظاہر ہونی شروع ہوگئی ہیں ۔ اب اگر دنیا میں لڑائی شروع ہوئی تو یقیناً سمجھ لو کہ اس لڑائی کے بعد کی دُنیا وہ دنیا نہیں ہوگی جواب ہے بلکہ بالکل بدلی ہوئی دُنیا ہو گی ۔ ہزاروں ایجادیں ممکن ہے دُنیا سے مٹ جائیں کیونکہ ان ایجادات کے موجد دُنیا سے مٹ جائیں گے ۔ ہزاروں کارخانے ممکن ہے دُنیا سے مٹ جائیں کیونکہ ان کارخانوں کو چلانے والے دُنیا سے مٹ جائیں گے۔ دُنیا کے سامنے ایک ایسی خطر ناک تباہی نظر آ رہی ہے جو قیامت کا نمونہ ہوگی نہ انفلوائنزا اس تباہی کا مقابلہ کر سکتا ہے، نہ طاعون اس تباہی کا مقابلہ کر سکتی ہے، نہ گزشتہ جنگِ عظیم اس تباہی کا مقابلہ کر سکتی ہے کیونکہ طاعون اور انفلوائنزا ایک ایک آدمی کو پکڑتے ہیں مگر اس جنگ کے ذریعہ ایک کو نہیں بلکہ شہروں کے شہروں کو یکدم برباد کیا جا سکتا ہے۔ بالکل ممکن ہے وہ بڑے بڑے شہر جن میں تمہیں تمھیں ، چالیس چالیس لاکھ کی آبادی ہے، ایک دن آدمیوں سے بھرے ہوئے ہوں مگر دوسرے دن تمہیں یہ اطلاع ملے کہ اس شہر میں ایک آدمی بھی باقی نہیں رہا سب مار دیئے گئے ہیں ۔ گویا ملک الموت کی حکومت دنیا میں ہونے والی ہے اور خدا اسے کھلی ڈھیل دینے والا ہے۔ دُنیا کے بعید ترین علاقوں کے لوگ بھی اس تباہی سے محفوظ نہیں ۔ تم خیال کرتے ہو کہ ہم ہندوستان کے رہنے والے ان حملوں سے محفوظ ہیں مگر یہ درست نہیں ۔ دو دو، تین تین ہزار میل کی پرواز کرنے والے ہوائی جہاز ایجاد ہو چکے ہیں ۔ اٹلی اور ایسے سینیا سے ہوائی جہاز آ کر پنجاب اور سندھ پر گولہ باری کر سکتے ہیں اور جاپان کے ہوائی جہاز چین کے راستوں سے آ کر مدراس ، بنگال اور برما کو تباہ کر سکتے ہیں۔ پس مت سمجھو کہ تم محفوظ جگہوں میں ہو ۔ اس وقت ایسی زبر دست تباہی کے سامان پیدا ہو چکے ہیں کہ کسی انسان کی زندگی بھی محفوظ نہیں ۔ جب انسانی زندگی کے خون کی اس قدر ارزانی ہو رہی ہے اور جب زندگی کا کوئی اعتبار ہی نہیں رہا تو کیوں نہ اس زندگی کو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے خرچ کیا جائے ۔ اگر آج تم اپنی زندگی میں تبدیلی پیدا کرو گے تو کل والی دنیا کو خدا تمہارے سپرد کر دے گا لیکن اگر آج تم نے اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کی تو نہ معلوم نم اندر نہ تمہاری جگہ کل خدا تعالیٰ کسی قوم کو کھڑا کر دے گا جو ان سامانوں سے فائدہ اُٹھائے گی جو