خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 683 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 683

خطبات محمود ۶۸۳ سال ۱۹۳۸ ء ایسی بغاوت کے وقت اُسامہ کا لشکر بھی رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے بھیج دیا گیا تو پیچھے صرف بوڑھے ، مرد، بچے اور عورتیں رہ جائیں گی اور مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں ہو سکے گا۔ چنانچہ انہوں نے تجویز کی کہ اکابر صحابہؓ کا ایک وفد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جائے اور اُن سے درخواست کرے کہ اس لشکر کو بغاوت کے فرو ہونے تک روک لیں ۔ چنانچہ حضرت عمر او ر ا کا بر صحابہؓ مل کر ایک وفد کی صورت میں حضرت ابو ابوبکر کے پاس گئے اور اُن سے عرض کیا کہ کچھ عرصہ کے لئے اس لشکر کو روک لیا جائے ۔ جب بغاوت فرو ہو جائے تو پھر بیشک اسے بھیج دیا جائے۔ ائے ۔ جب حضرت ابو ابوبکرؓ کے پاس یہ وفد یہ وفد پہنچا تو آپ نے نہایت غصہ سے اس وفد کو یہ جواب دیا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ابوقحافہ کا بیٹا سب سے پہلا یہ کام کرے کہ جس لشکر کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اسے روک لے ۔ ( حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت تھی کہ جب وہ اپنی تحقیر کرنا چاہتے تو اپنے باپ کا نام لیتے ۔ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ میری کیا حیثیت ہے کہ میں ایسا کروں ۔ اس موقع پر بھی آپ نے اپنے باپ کا نام لے کر کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ابو قحافہ کا بیٹا سب سے پہلا کام یہ کرے کہ جس لشکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا اسے وہ روک لے ۔ ) پھر آپ نے فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اگر سارا عرب باغی ہو گیا ہے تو بیشک ہو جائے ، خدا کی قسم اگر دشمن کی فوج مدینہ میں گھس آئے اور ہمارے سامنے مسلمان عورتوں کی لاشیں کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو ضرور روانہ کروں گا جس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کے لئے تیار کیا ہے ۔ اگر تم دشمن کی فوجوں سے ڈرتے ہو تو بیشک میرا ساتھ چھوڑ دو میں اکیلا تمام دشمنوں کا مقابلہ کروں گا ۔ یہ جرات اور دلیری حضرت ابو بکر میں کہاں سے پیدا ہوگئی ؟ یہ وہی ارْكَعُوا وَ اسْجُدُوا والے حکم کی تعمیل کا نتیجہ ہے جس طرح بجلی کے ساتھ معمولی تا ر بھی مل جاتی ہے تو اس تار میں عظیم الشان طاقت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا ہے تو دُنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ بجلی سے علیحدہ کر لو تو تار کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی مگر اسی تار میں جب بجلی کی رو آئی ہوئی ہو اور تار کے اوپر سے اتفاقاً ربڑ اُترا ہوا ہو تو اگر ایک قوی سے قوی