خطبات محمود (جلد 19) — Page 677
خطبات محمود ۶۷۷ سال ۱۹۳۸ ء کے لئے گئے ۔ دورانِ گفتگو میں کمشنر پوچھ بیٹھا کہ میں دورہ پر جانے والا ہوں یہ بتائیں کہ قادیان سے سری گوبند پور کتنے میل ہے؟ اُس نے جو نہی یہ سوال کیا ہمارے دادا صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے میں اپنی ہتک کرانے کے لئے یہاں نہیں آیا میں کوئی ہر کا رہ نہیں کہ ایسا سوال مجھ سے کیا جائے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مشران کی متیں کرنے لگا اور کہنے لگا آپ ناراض نہ ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ ہے وہ دنیا دار تھے مگر یہ جس اُن میں بھی تھی کہ میں عزت رکھتا ہوں اور اگر تم میری عزت کا پاس نہیں کر سکتے تو میں جاتا ہوں ۔ تو انسان کی حقیقی عزت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسے ملتی ہے ۔ وہ عزت جتنی بھی ہو خواہ تھوڑی ہو یا بہت انسان کے لئے کافی ہوتی ہے مگر جب وہ خیالی عزتوں کے پیچھے پڑتا ہے تو اسے ایسی ایسی غلامیاں اور ایسی ایسی فرمانبرداریاں کرنی پڑتی ہیں کہ جن کی کوئی حد ہی نہیں ہوتی اور پھر اسے جو چیز ملتی ہے وہ نہایت ہی حقیر ہوتی ہے۔ ہمارے رے صوفیاء کی تاریخ میں ایک مشہور واقعہ آتا ہے ۔ شبلی اسلام میں ایک بہت بڑے بزرگ اور ولی اللہ گزرے ہیں ۔ ان کا نام اتنا مشہور ہے کہ گاؤں کے لوگ بھی انہیں جانتے ہیں اور اشعار میں اُن کا ذکر کرتے ہیں ۔ وہ اسلام میں چوٹی کے بزرگ ہوئے ہیں ۔ وہ اسلامی بادشاہت میں پہلے گورنر تھے اور اس قدر ظالم اور جابر تھے کہ حجاج بن یوسف کی طرح ان کا بھی رعب تھا اور لوگ اُن سے بڑے ڈرتے تھے ۔ ذرہ سی بات پر بھی لوگوں کو سخت سزائیں دیتے اور انہیں مارتے یا قتل کرا دیتے ۔ ایک دن بغداد میں بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا وہ بھی اس در بار میں موجود تھے کہ ایک فاتح جرنیل بادشاہ کے سامنے پیش ہوا۔ اس جرنیل نے بعض مخالف افواج کو جن سے باشاہ بھی گھبراتا تھا شکست فاش دی تھی اور بادشاہ نے یہ دربار اسی لئے لگایا تھا کہ اپنے ہاتھ سے اس جرنیل کو خلعت فاخرہ دے اور اس طرح سب کے سامنے اس کی قدر افزائی کرے ۔ چنانچہ وہ بادشاہ کے سامنے پیش ہوا اور اُس نے نہایت ہی اعزاز کے ساتھ اسے خلعت پہنایا مگر وہ بیچارہ شاید اس دن شامت اعمال سے رومال لانا بھول گیا تھا۔ عام طور پر درباری اپنی آستینوں میں رو مال چھپا کر رکھتے ہیں یا ممکن ہے وہ رومال تو لایا ہو مگر اس کے پہلے کوٹ میں ہو جو اُس نے خلعت پہننے کے لئے اُتارا ہو ۔ بہر حال اُس وقت رو مال اس کے پاس