خطبات محمود (جلد 19) — Page 671
خطبات محمود ۶۷۱ سال ۱۹۳۸ ء بڑے وہ جھوٹ ، فریب اور دغا بازی ، ان سارے ہتھیاروں کو استعمال کر سکتے ہیں مگر یہ ہتھیار جو عام طور پر دنیا میں کامیابی کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں دین میں ان کو بالکل حرام قرار دیا گیا ہے۔ دنیوی امور میں لوگ جھوٹ سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں ، وہ فریب سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فریب کے بغیر گزارہ نہیں ، وہ منافقت سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کے منافقت کے بغیر گزارہ نہیں ۔ جب ایک قوم دوسری قوم کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، جب اس کی ساری قوتیں دوسری قوم پر حملہ کرنے کے لیے مجتمع ہو رہی ہوتی ہیں، جب اس کے سارے محکمے اپنے کیل کانٹے درست ست کے کر کرد رہے ہوتے ہیں اس وقت دنیا دار حکومتیں بڑ۔ زور سے یہ اعلان کرتی سُنائی دیتی ہیں کہ ہمارے تعلقات اس حکومت سے بڑے اچھے ہیں اور جب وہ جنگ کا فیصلہ کر چکی ہوتی ہیں اُن کے مدبر بڑے زور شور سے یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم صلح کے لئے ہر ممکن تدبیر اختیار کریں گے مگر اُن کی غرض اِن اعلانات سے یہ ہوتی ہے کہ اگر ہمارا دشمن بیوقوف بنایا جا سکے تو اسے بیوقوف بنائیں ۔ اس کے مقابلہ میں ان کا دشمن بھی اسی طرح کر رہا ہوتا ہے جس طرح وہ کر رہے ہوتے ہیں ۔ وہ بھی دھوکا اور فریب اور جھوٹ استعمال کر رہا ہوتا ہے مگر دین کے ساتھ تعلق رکھنے والی قوموں کو اس قسم کے طریق اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ انہیں اگر کہا جاتا ہے تو یہ کہ تمہیں اچانک حملہ کرنے کی اجازت نہیں اور اگر تمہارا کسی قوم کے ساتھ معاہدہ ہے اور تم دیکھتے ہو کہ دوسرا فریق اس معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو ایک لمبا عرصہ قبل یہ اعلان کر دو کہ ہمارا تمہارا معاہدہ ختم ہے ۔ اس کے بعد اگر تم ہو تو دوسری قوم سے لڑ سکتے ہو ۔ ہو۔ پس دینی کاموں کے لیے مشکلات بہت زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ جن تدابیر کو دنیا اختیار کر سکتی ہے ان کو ان تدابیر کے اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔اس لئے کوئی ایسا قائمقام ہونا چاہئے جو جھوٹ اور فریب اور دغا کے مقابلہ میں نیکی کا سہارا ہو ۔اس سہارے کا اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جو ابھی میں نے تلاوت کی ہیں ذکر کیا ہے فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ار گنوا ۔ اے مومنو! تم رکوع کرو اور رکوع سے مراد اس جگہ نماز والا رکوع نہیں بلکہ رکوع کے معنی نماز کے علاوہ بھی ایک ہوتے ہیں اور وہ معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کی توحید پر کامل ایمان