خطبات محمود (جلد 19) — Page 650
خطبات محمود ۶۵۰ سال ۱۹۳۸ ء پر اعتراض ہوگا ۔ کہ حضرت یحییٰ شہید نہیں ہوئے تھے ۔ کیونکہ آپ نے بار بار فرمایا کہ وہ شہید ہوئے ہیں ۔ اور کسی ایک حدیث میں بھی یہ نہیں فرمایا کہ انہوں نے اپنی طبعی موت موت سے وفات پائی ہے ۔ پس اول تو یہ حوالہ خطابیات میں اس لئے شمار نہیں ہو سکتا ۔ کہ جو عقیدہ غیر احمدی رکھتے ہیں وہ احادیث میں بیان ہو چکا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق فرما چکے ہیں ۔ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق کر دی تو لاز ما یہ ہمارا عقیدہ بھی بن گیا ۔ اور جو ہمارا اپنا عقیدہ ہو وہ خطا بیات میں شمار نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ خطا بیات انہی دلائل کو کہتے ہیں جو صرف مخالف کے مسلّمہ ہوں اور اس پر اتمام حجت کرنے کے لئے اس کے سامنے پیش کئے جا رہے ہوں ۔ پھر سوال یہ ہے کہ اگر یہاں قَدْ قُتِلَ کے الفاظ نہ ہوتے ۔ تو کیا جو دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیش فرمارہے ہیں ۔ وہ کمزور ہو جاتی ۔ اگر تو قتل کے لفظ سے ہی دلیل بنتی تب تو ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ خطا بیات میں سے ہے۔ مگر ہم تو دیکھتے ہیں ۔ کہ بغیر قتل مانے کے بھی یہ دلیل پوری طرح قائم رہتی ہے۔ در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس جگہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات حضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس دیکھا جس سے ثاب ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی فوت ہو چکے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کیا مردہ کے پاس حضرت عیسی علیہ السلام دیکھے جانے سے تو زندہ ثابت ہو سکتے تھے لیکن یحییٰ مقتول کے پاس دیکھے جانے سے وفات ثابت ہوتی تھی؟ اگر تو دلیل یہ ہوتی کہ کسی مقتول کے پاس جب عالم مکاشفات میں کسی شخص کو دیکھا جائے تو یہ اُس کی وفات کی دلیل ہوتی ہے تب تو ہم کہہ سکتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وفات مسیح ثابت کرنے کے لئے حضرت یحییٰ کے متعلق قد قتل کے الفاظ غیر احمدیوں کے عقیدہ کے مطابق اور ان پر حجت پوری کرنے کے لئے بڑھا دیئے۔ لیکن اگر کسی مردہ کی روح کے پاس کسی دوسرے کی روح دیکھے جانے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ دونوں فوت شدہ ہیں تو صاف معلوم ہو گیا کہ یہاں قد قُتِلَ کے الفاظ خطابیات کے طور پر استعمال نہیں کئے گئے بلکہ امر واقع کے طور پر استعمال کئے گئے ہیں ۔