خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 639

خطبات محمود ۶۳۹ سال ۱۹۳۸ ء عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل ہوئے ۔ حضرت حضرت یحییٰ علیہ السلام کے مرید کہتے ہیں حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل ہوئے پھر ان تینوں قوموں کی شہادت کے ساتھ مؤرخوں کی شہادت بھی مل جاتی ہے اور وہ بھی کہتے ہیں ۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام قتل ہوئے ۔ ان تمام واقعات کی موجودگی میں اگر ہم انیس سو سال کے بعد آج اُٹھ کر یہ کہہ دیں کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام مقتل نہیں کئے گئے تو دنیا کس طرح ہماری اس بات کو مان سکتی ہے۔ یا خود ہماری عقلیں کس طرح اس عقیدہ کو تسلیم کر سکتی ہیں ممکن ہے کوئی کہہ دے کہ کیا انیس سو سال تک لوگ یہ نہیں کہتے رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر لٹک کر فوت ہوئے ہیں اور کیا انیس سو سال کے بعد جماعت احمد یہ نے اس نظریہ کو نہیں بدلا ؟ پھر اگر یہ کہہ دیا جائے کہ انیس سو سال تک عیسائی، یہودی اور مورخ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق جو کچھ کہتے رہے وہ غلط ہے تو اس میں عجیب بات کون سی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم واقعہ صلیب کے متعلق عیسائیوں اور یہودیوں کی گواہی اس لئے تسلیم نہیں کرتے کہ اس میں عیسائیوں اور یہودیوں کی خود غرضی ہے ۔ اور وہ اگر سچی بات بیان کریں تو ان کے اپنے مذہب پر پانی پھرتا ہے ۔ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر لٹک کر فوت ہوئے ۔ اور اس میں یقیناً عیسائیوں کا فائدہ ہے کیونکہ ان کے کفارہ کی بنیاداسی امر پر ہے کہ مسیح نے ان کے گناہ اٹھا لئے ۔ اور ان کے بدلہ میں خود جان دے دی ۔ یہودی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح صلیب پر مرے ۔ مگر اس لئے کہ وہ چاہتے ہیں حضرت مسیح کو ملعون ثابت کریں چونکہ وہ حضرت مسیح کو ماننا نہیں چاہتے ۔ بلکہ چاہتے ہیں انہیں ملعون ثابت کریں ۔ اس لئے وہ کہتے ہیں مسیح صلیب پر لٹکا اور پھر وہاں سے زندہ نہیں اترا بلکہ صلیب پر لٹک کر مر گیا ۔ اور تورات کے مطابق نعوذ باللہ ملعون ثابت ہوا۔ اسی طرح رومی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہوئے مگر اس لئے کہ رومی گورنر پیلاطس پر جو ہیرو ڈانٹی ایس کے ماتحت تھا یہ الزام آتا تھا کہ اس پر حضرت مسیح کو بچانے کی کوشش کی ۔ پس چونکہ اس پر بھی الزام آتا تھا اس لئے لازماً اس نے بھی حقیقت پر پردہ ڈالنا تھا پس چونکہ وہاں تینوں قوموں کا مفاد اسی امر میں تھا کہ یہ مشہور کریں کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر لٹک کر فوت ہو گئے ہیں ۔ اسی لئے ان کی