خطبات محمود (جلد 19) — Page 628
خطبات محمود ۶۲۸ سال ۱۹۳۸ ء یہی ہے کہ اللہ تعالی انبیاء کو قتل ہونے سے بچاتا ہے مگر استثنائی طور پر بعض قتل کر بھی و کر بھی دیئے جاتے ہیں اور اس میں بھی کوئی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہوتی ہے ۔ میں بھی پس قرآن، حدیث اور بائبل تینوں اس مسئلہ میں متفق ہیں اور ایسی متفقہ گواہی کی تردید کے لئے بھی کوئی زبردست وجہ ہونی چاہئے بغیر کسی معقول وجہ کے اس کی تاویل نہیں کی جاسکتی نے قرآن کریم نے فرشتوں کے وجود کا ذکر کیا ہے مگر سر سید احمد صاحب نے کہا ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالی کی طاقتیں ہیں اور یہ تاویل بعض حوالوں کو مد نظر رکھ کر بیشک ہو سکتی ہے لیکن جس وضاحت سے فرشتوں کا ذکر قرآن کریم میں ہے ان سب کو مد نظر رکھ کر یہ تاویل کسی صورت میں نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی ایسی تاویل کرے تو ضروری ہے کہ اس کے ہاتھ میں کوئی زبر دست ثبوت ہو ۔ اسی طرح ان تینوں بیانات کی تاویل کرنے کے لئے کوئی زبردست شہادت چاہئے کیونکہ جب بائبل ، قرآن اور حدیث تینوں قتل کے جواز کو مانتے ہیں تو اصولی طور پر اس کی تردید کے لئے ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں سوائے اس کے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ بیشک نبی قتل ہو سکتا ہے لیکن حضرت یحیی کا قتل تاریخ و کتب دینیہ سے ثابت نہیں لیکن اس معاملے میں یہ صورت بھی موجود نہیں ۔ اب چونکہ دیر ہو گئی ہے میں اس مضمون کو اگلے خطبہ میں اِنْشَاءَ اللہ بیان کروں گا ۔“ : ( الفضل ۔ ا استمبر ۱۹۳۸ء) اس خطبہ کے بعد مولوی ابوالعطاء صاحب اور مولوی راجیکی صاحب دونوں کے خطوط ملے ہیں جن میں اُنہوں نے اپنی براءت کی ہے۔ میں ان کی براءت کو تسلیم کرتا ہوں۔ میری ہرگز یہ غرض نہیں کہ اُن کی تنقیص ہو میں ان کو مخلص اور سلسلہ کا خادم سمجھتا ہوں ، میری غرض صرف یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عقیدہ صاف اور واضح ہو جائے اور میں سمجھتا ہوں ان دوستوں کی بھی یہی خواہش ہوگی ۔ ایسے امور میں تردید کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے اور نہ اس کی کہ نادان لوگ دھوکا کھا کر ہنسی مذاق کریں ۔ وہ جو ایسے امور میں ہنسی کرتا ہے اُس کی روحانیت مردہ ہے اُس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے یہ تو بڑے خوف کا مقام ہے۔ خاکسار ۔ مرزا محمود احمد ( الفضل ۱۰ استمبر ۱۹۳۸ صفحه ۱ )