خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 602

خطبات محمود doh سال ۱۹۳۸ ء ہم تینوں کی یہ گواہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا کہ سلسلۂ محمد یہ کی سلسلۂ موسویہ سے ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ جس طرح وہاں حضرت یحییٰ شہید ہوئے اسی طرح یہاں سید احمد صاحب بریلوی شہید ہوئے ۔ اب اس دلیل کو خطابیات میں کس طرح شمار کیا جاسکتا ہے۔ خطا بیات کے لئے تو زبر دست قرائن اور وجوہ چاہئیں اور اگر وہ قرائن اور وجوہ نہ پائے جائیں تو اسے خطا بیات بھی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ شاید عام لوگ خطا بیات کے معنے نہ سمجھتے ہوں اس لئے میں انہیں سمجھانے کے لئے بتا دیتا ہوں کہ خطابیات اسے کہا جاتا ہے کہ کسی دوسری قوم کے عقیدہ کو نقل کر لیا جائے اور کہا جائے کہ چونکہ تم فلاں بات اس طرح مانتے ہو اس لئے تم پر یہ حجت ہے اب اس تعریف کے ماتحت خود ہی غور کرو کہ یہ بات خطا بیات میں کس طرح شمار کی جاسکتی ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جس طرح حضرت یحییٰ شہید ہوئے جو حضرت مسیح سے پہلے ان کی خبر دینے کے لئے آئے اسی طرح حضرت سید احمد صاحب بریلوی شہید کئے گئے جو مجھ سے پہلے آپ کی بعثت کی خبر دینے کے لئے آئے ۔ اب اگر یہ بات خطا بیات میں سے ہے تو یہ کس پر محبت ہو سکتی ہے؟ کیا غیر احمدی حضرت سید احمد بریلوی کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کا مثیل مانتے ہیں یا عیسائی ان کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کا مثیل مانتے ہیں؟ جو بات خطا بیات میں سے ہو وہ تو وہ دلیل ہوا کرتی ہے جو غیر قوموں کے لئے حجت ہو۔ مثلاً اگر ہم کہیں کہ انجیل میں یوں لکھا ہے تو یہ امر عیسائیوں پر تو محبت ہو سکتا ہے مگر ایک مسلمان پر کس طرح محبت ہو سکتا ہے جبکہ وہ انجیل کو الہامی کتاب مانتا ہی نہیں ۔ مثال کے طور پر دیکھ لوانجیل میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح ناصری نے شراب پی ۔ اب اس بناء پر ہم عیسائیوں کو تو ملزم کر سکتے ہیں مگر کیا ہم مسلمانوں کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ اے مسلمانو! حضرت مسیح نے شراب پی تھی اور جب ہم پر اعتراض ہو تو ہم کہہ دیں یہ خطابیات میں سے تھا۔ جب ہم مسلمانوں کے سامنے مسیح کے ایسے واقعات پیش کریں گے جن کو وہ نہیں مانتے تو وہ خطا بیات نہیں کہلائیں گے بلکہ ایسے حقائق کہلائیں گے جن کو ہم تسلیم کرتے ہیں ۔ غرض خطا بیات وہی باتیں ہوتی ہیں جہاں ایسے لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہو جن پر ان باتوں کی وجہ سے اتمام حجت ہو سکتا ہو مگر جب اپنی جماعت کے سامنے کسی بات کا ذکر ہو رہا ہو اور دوسری کسی قوم پر وہ بات محبت بھی نہ ہو تو اُسے خطا بیات میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔