خطبات محمود (جلد 19) — Page 580
خطبات محمود ۵۸۰ سال ۱۹۳۸ ء لوگ اگر علم ہی نہ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فلاں مسئلہ کے متعلق کیا ارشاد فرمایا ہے یا آپ کی اس بارہ میں کیا رائے ہے تو وہ اگر لاعلمی میں کوئی بات کہہ دے تو اس سے اور استدلال نہیں کر سکتے ۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ نبوت نبوت اور کفر و اسلام وغیرہ مسائل کے متعلق بھی بعض مجزئیات کے بارہ میں حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کو پوری واقفیت نہیں تھی ۔ پیغامیوں کا جب فتنہ اُٹھا اور اُنہوں نے ان مسائل کو غلط رنگ میں بیان کرنا شروع کیا تو بعض اجزاء کے متعلق بعض دفعہ آپ فرما دیتے ممکن ہے یہ بات یوں ہی ہو ۔ مگر جب حوالہ جات نکال کر دکھائے جاتے تو آپ فرماتے ہاں اب بات میری سمجھ میں آ گئی ہے لیکن اس مسئلہ کے متعلق جیسا کہ میں بتا چکا ہوں حضرت خلیفۃ اصبح الاول نے صاف طور پر فرمایا تھا کہ اب میں آئندہ ایسی بات نہیں کہوں گا لیکن اگر بفرض محال ان کا یہ عقیدہ ہمیشہ رہا ہو تو بھی ان کی بات کو پیش کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی بات کو رڈ کرنا ایسی ہی بات ہے جیسے اس پٹھان نے کہا تھا خو محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا ۔ حضرت خلیفہ اول چاہے کتنی بڑی حیثیت رکھتے ہوں ۔ ایک نبی کے مقابلہ میں ان کی بات کوئی وقعت نہیں رکھتی ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر مؤمنوں کو ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِي کہ اے ایمانداروں تم اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔ پس اس آیت کے ما تحت تو ہم سمجھتے ہیں اگر حضرت خلیفہ اول بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی بات کا انکار کر دیتے تو وہ ویسے ہی مجرم ہوتے جیسے دوسرے لوگ ہوتے مگر ہم جانتے ہیں انہوں نے انکار نہیں کیا اور اول المؤمنین ہوئے لیکن نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ اگر وہ منکر ہوتے تو پھر کیا ان کی کوئی حیثیت ہماری جماعت میں ہوتی ۔ آخر خلیفہ کی نبی کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہوتی ہے۔ خلیفہ تابع ہوتا ہے اور نبی متبوع ۔ ہم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا اسلام میں بہت بلند مقام تسلیم کرتے ہیں مگر اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے رہے ۔ اگر کل کو کوئی کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بات غلط ہے کیونکہ حضرت ابوبکر نے یوں کہا تھا تو یہ بات حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی شان کو بلند کرنے والی نہیں بلکہ آپ کی شان کو گرانے والی ربات حضرت ابو بلر ہو گی ۔ خلفاء کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے نبی متوبع کے تابع ہو کر چلیں ۔ اگر وہ ان کی تعلیم سے وہ