خطبات محمود (جلد 19) — Page 557
خطبات محمود ۵۵۷ سال ۱۹۳۸ ء کی حقیقی محبت نہیں بلکہ غلط محبت ہے اور اس کی وجہ سے کئی انسان ٹھو کر کھا گئے ہیں ۔ اسی طرح بعض لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلط محبت اختیار کی اور انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی کی کیا ضرورت ہے اب بظاہر اس عقیدہ کا منبع اور مبدا محبتِ رسول ہے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے ہی انہوں نے یہ قرار دے دیا کہ اب کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت نہیں ۔ مگر اس کا کیسا خطرناک نتیجہ نکلا کہ تیرہ سو سال گزرنے کے بعد جب اللہ تعالیٰ کی مشیت نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دُنیا کی ہدایت کے لئے اپنا ایک نبی بھیجے اور اس نے بنی نوع انسان کی حالت پر رحم فرماتے ہوئے اپنا نبی بھیج دیا تو لاکھوں نہیں کروڑوں لوگ محض اس عقیدہ کی وجہ سے اسے قبول کرنے سے محروم رہ گئے ۔ حالانکہ بظاہر یہ عقیدہ محبت رسول کی وجہ سے اختیار کیا گیا تھا لیکن اگر وہ غلط محبت اختیار نہ کرتے تو انہیں وقت پر ٹھوکر نہ لگتی ۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مریدوں نے ان سے غلط محبت کی اور وہ ٹھو کر کھا کر کہیں کے کہیں چلے گئے ۔ انہوں نے بھی یہ کہہ دیا کہ اب حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا ۔ دوسری طرف انہوں نے یہ غلط رویہ اختیار کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام تو ساری عمر یہ کہتے رہے کہ مجھے نیک مت کہو نیک ایک ہی ہے جو آسمان پر ہے۔ میں آدم کا بیٹا ہوں اور میں ویسا ہی بشر ہوں جیسے تم مگر باوجود ان کے یہ بار بار کہنے کے ان کی جماعت نے کہہ دیا کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں غلط کہتے ہیں ۔ اصل میں یہ آدم کے بیٹے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں ۔ تو صحیح رویہ یہ ہوا کرتا ہے کہ جو بات جس رنگ میں ہو انسان اسے اس رنگ میں ہی رکھے اور حد سے آگے نہ بڑھائے ۔ غرض یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کبھی غلط محبت پیدا ہو گی اس کے متعلق غلط اصول قرار دے دیئے جائیں گے اور وہ غلط اصول دنیا کو کوئی فائدہ تو نہیں پہنچائیں گے البتہ یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ وہ کسی وقت خطرناک نقصان پہنچا دیں مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جب تک اتعالیٰ کا کوئی سچا نبی نہیں آیا تھا اس عقیدہ نے کہ آپ کے بعد کسی قسم کا بھی کوئی نبی نہیں آ سکتا دنیا کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچایا ۔ جو جھوٹے نبی آئے ان کے رڈ کرنے کے تو اور سامان خدا