خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 474

خطبات محمود ۴۷۴ سال ۱۹۳۸ ء اور پھر رومی خود بخود ان کے مقابلہ پر آئیں گے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ طریق ہی نہ تھا دشمن اگر حملہ کرے تو آپ کرتے تھے ورنہ نہیں ۔ جب مسلمان واپس آگئے تو ان کی امیدیں نا کام ہو گئیں ۔ آخر آپ نے اس مسجد کو مسمار کرایا اور اس کی جگہ میلہ کا ڈھیر بنایا گیا ہا۔ کی بلکہ اس محلہ کو ہی آپ نے گروا دیا۔ پھر آپ کی وفات کے بعد تو یہ فتنہ اس طرح اٹھا کہ صرف اس کو ہی نے کی وفات کے بعد تو یہ اڑھائی شہر ایسے رہ گئے جہاں نماز با جماعت ہوتی تھی ورنہ سب جگہ آگ لگ گئی تھی ۔ حضرت عمر کے زمانہ میں یہ اکا دُ گا ر ہے مگر حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کے زمانہ میں پھر زور پکڑا ۔ دُکار تو منافقوں کا ہر زمانہ میں موجود رہنا ضروری ہے ۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ شیطان سو جائے گا اگر رحمانی فوجیں کام کرتی رہتی ہیں تو شیطانی بھی غافل نہیں رہ سکتیں ۔ یہ شیطان کا دستور ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے آدمی کھڑا کرتا رہتا ہے جن سے اسلام کو نقصان پہنچے اس لئے ہماری جماعت اگر یہ خیال کرتی ہے کہ کسی وقت منافق باقی نہیں رہیں گے تو یہ اس کی غلطی ہے۔ کوئی قوم ایسی نہیں ہوئی کہ جس کے سو فیصدی افراد مؤمن اور مخلص ہوں ۔ یہ خدا تعالیٰ کے نظام کو باطل کرنے والی بات ہے ۔ یہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ پس یہ امید ہرگز نہیں کرنی چاہئے کہ منافق ختم ہو جائیں گے ۔ اب چونکہ سوا تین بج چکے ہیں اس لئے باقی باتیں آئندہ میں انشاء اللہ بیان کروں گا ۔ اس وقت صرف یہی کہہ کرختم کرتا ہوں کہ منافق ہر جماعت میں ہوتے رہتے ہیں اس لئے ہمیں یہ خیال کبھی نہیں کرنا چاہئے کہ یہ ہم میں کس طرح پیدا ہو گئے۔ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ بڑھ کر تو نہیں ہو سکتے ۔ اگر آپ کے ایک ہزار ساتھیوں میں سے تین سو آدمی منافق ہو سکتے ہیں تو تم میں سے اگر دو، چار، دس یا زیادہ منافق نکل کھڑے ہوں تو گھبرانے کی کونسی بات ہے۔“ ا يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًاء ( البقرة : ۲۷) 66 الفضل ۵ اگست ۱۹۳۸ء ) إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ م ( المنافقون (۲) بخارى كتاب الحدود باب كَرَاهِيَة الشَّفَاعَة فِي الحَدِّ (الخ) الاعراف: ۱۴۳