خطبات محمود (جلد 19) — Page 467
خطبات محمود ٤٦٧ سال ۱۹۳۸ ء سن کر کہ دو چار آدمی منافق ہو گئے ہیں گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے کہ اب کیا ہو گا لیکن وہاں تین ہزار کو ایک دن میں سزا دی گئی۔ میں نے کہا ہے کہ قتل کئے گئے ۔ بائیل میں بھی یہی لفظ ہے۔ کے قرآن کریم میں بھی قتل کا لفظ آیا ہے۔ قتل بعض دفعہ اور طریق سے بھی ہوتا ہے۔ ممکن ہے یہ قتل بائیکاٹ کی صورت میں ہی ہو جیسا کہ احادیث سے پتہ لگتا ہے۔ یا ممکن ہے ان کی یا شریعت میں ہر منافق کی سزا قتل ہی ہو ۔ بہر حال تین ہزار منافق تھے۔ ذرا اندازہ کروکتنی بڑی تعداد ہے۔ دوسرا واقعہ قارون کا ہے۔ سامری کو تو صرف پڑھے لکھے لوگ ہی جانتے ہیں مگر قارون سے ہمارے زمیندار بھائی بھی واقف ہیں ۔ کہتے ہیں بڑا قارون کا خزانہ دے دیا ہے۔ یا کسی سے مانگتے ہی جاؤ تو وہ کہتا کہ کہ کیا میرے پاس قارون کا خزانہ ہے۔ تو یہ شخص بہت مالدار تھا۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے تھا مگر اندر ہی اندر آپ کے خلاف کوششیں کرتا رہتا تھا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کر دیا۔ گویا اسے آسمانی سزا ملی ۔ تیسرا واقعہ وہ ہے ۔ جس کی طرف قرآن کریم نے اذَوْا مُوسی کے والی آیت میں اشارہ کیا ہے۔ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی قوم میں سے ایک جماعت یہ کہنے لگ گئی تھی کہ آپ کو کوڑھ ہو گیا ہے۔ بعض کا خیال تھا کہ آپ کے خصیوں میں پانی بھر گیا ہے اور اسے بھی وہ لوگ عیب سمجھتے تھے۔ بعض کا خیال تھا کہ خصیوں پر کوڑھ ہے۔ بعض لوگوں کو بوجہ اس کے کہ ان کا چمڑا نرم ہوتا ہے بعض دفعہ کھجلی کی ضرورت پیش آتی ہے ممکن ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام السلام کو بھی ۔ تکلیف ہو اور وہ اس سے سمجھتے ہوں کہ کوڑھ ہے ۔ حدیثوں میں ایک واقعہ آتا ہے جس کی میں تو اور تاویل کیا کرتا ہوں مگر بہر حال آتا یوں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک مرتبہ نہانے لگے تو ایک پتھر پر کپڑے رکھے اور وہ پتھر کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے بھاگے اور ان لوگوں نے دیکھ لیا کہ آپ کے اندام نہانی پر داغ نہیں تھے ۔ وہاں بحجر کا لفظ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ واقعہ اسی طرح ہے تو حجر کسی شخص کا نام ہوگا یہ نام ہوتا ہے۔ 2 ابن حجر ایک بہت بلند پایہ امام گزرے ہیں ۔ گزشتہ تیرہ سو سال میں جو چند ایک ممتاز علماء پیدا ہوئے ہیں ان میں سے ایک ہیں ۔ وہ پتھر کے بیٹے تو نہیں تھے یا تو کسی وجہ سے یہ ان کی کنیت تھی اور یا پھر ان کے باپ کا نام حجر ہوگا ۔ یہ