خطبات محمود (جلد 19) — Page 444
خطبات محمود マママ سال ۱۹۳۸ ء بعض عورتوں کے پاس اس نے اپنے بیٹے کی طرف یہ بات منسوب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہتا ہے۔ میرا جرم یہی ہے کہ میں نے سچ بول دیا ، اگر میں جھوٹ بول دیتا تو پھر تو میری امداد کے لئے بڑے بڑے وکیل پہنچ جاتے ۔ جب مجھے یہ خبر پہنچی تو میں نے وہاں کی جماعت کو لکھا کہ دریافت کیا جائے کہ کیا بات ہے۔ انہوں نے میاں عزیز احمد صاحب کے متعلق لکھا ہے وہ تو ہرگز کوئی شکایت بیان نہیں کرتے ۔ آخر ان کی ماں نے بھی اقرار کیا کہ میں نے یہ بات اپنے بیٹے کی طرف غلطی سے منسوب کر دی تھی ۔ اصل بات یہ تھی کہ جب میں وہاں اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے گئی تو چوہدری محمد شریف صاحب وکیل میرے ساتھ تھے۔ وہ ایک وقت میرے بیٹے سے باتیں کر رہے تھے تو بعض مسلمان ملزم جیل کے میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ تم اس اس طرح جا کر باتیں کرو تو تمہارے بیٹے کی مدد کرنے پر یہ لوگ مجبور ہوں گے ۔ غرض جبکہ ہم ان سے سچ بلوار ہے تھے احرار کے ہمدردانہیں جھوٹ بولنے کی تلقین کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم اس اس طرح بیان دے دو کہ میں نے خود اسے نہیں مارا بلکہ مجھے کہا گیا تھا کہ تو میاں فخر الدین کو مار دے لیکن اس نے ایک ہی بات رکھی کہ جو گناہ ہو گیا سو ہو گیا میں اور گناہ کرنے کو تیار نہیں ۔ میں پہلے گناہ سے بھی تائب ہوں ۔ چنانچہ جب ان کو اپنی ماں کی کمزوری کا علم ہوا تو انہوں نے سختی سے اسے سمجھایا اور کہا ماں میری عاقبت مت بگاڑ اور سنا ہے اس کی نصیحت اپنی ماں کو یہی تھی کہ میں نے گناہ کیا ۔ اور اس سے توبہ کی اور میں اپنے قصور کی سزا پالوں گا ۔ اب تو بہ اور دعاؤں کے بعد میرے دل کو تسلی ہے کہ میرا گناہ معاف ہو جائیگا اور میں خوشی سے اس سزا کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں ۔ پھر جب پر یوی کونسل میں اپیل دائر کرنے کا سوال آیا ۔ تو انہوں نے اپنی ماں سے کہا ہونا ہوانا کچھ نہیں ۔ مجھے پھانسی پر ضرور لڑکا یا جائے گا اور میں اس سے گھبرا تا نہیں ۔ اے ماں تم بھی میرے بعد گبھرائیو نہیں ۔ پھر سنا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی ماں سے کہا۔ ماں میں نے جو کچھ کیا تھا اپنے ذہن میں خدا کے لئے کیا تھا اس لئے میری نیت کو خراب نہ کیجیؤ اور میری لاش پر روئیو نہیں بلکہ اس پر پھول ڈالیو تا دنیا سمجھ لے اس پر پھول ڈالیو تاد نہ کہ میں اپنے گناہ پر تو افسوس کرتا ہوں مگر میں اپنی سزا سے ڈرتا نہیں ۔ چنانچہ اس کی ماں نے سنایا