خطبات محمود (جلد 19) — Page 428
خطبات محمود ۴۲۸ سال ۱۹۳۸ ء قدرتی طور پر باقی صحابہ کے دل میں بھی یہ خیال پیدا ہوا کہ ہم بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں کہ ہمارے لئے بھی یہی دعا کی جائے ۔ پہلے تو وہ اس خیال میں تھے کہ ہمارے یہ کہاں نصیب ہیں کہ ہم جنت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں مگر جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یا بعض روایتوں کے مطابق کسی اور صحابی نے یہ بات کہہ دی اور ند عنہ نے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا بھی فرمائی تھی تو اب انہیں نمونہ مل گیا اور انہیں اللہ وسلم پتہ لگ گیا کہ یہ عمل نا ممکن نہیں بلکہ ممکن ہے۔ چنانچہ ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے ! ۔ کہا۔ يَا رَسُولَ اللہ ! میرے لئے بھی دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ جنت میں مجھے آپ کے ساتھ رکھے۔ آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ تم پر بھی فضل کرے مگر جس نے پہلے کہا تھا اب تو وہ دعا لے گیا ہے۔ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے بھی دعا فرما دیتے تو پھر تیسرا شخص کھڑا ہو جاتا۔ اس کے بعد چوتھا اور پھر پانچواں اور سب یہی کہتے ۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ سارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ میں ہی آ جاتے باقی جنت تو خالی ہی رہ جاتا کیونکہ بعد میں آنے والے بھی کہہ سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں بعد میں پیدا کر دیاور نہ ہمارا بھی یہی جی چاہتا ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں اور اس خواہش میں ہم کسی سے پیچھے نہیں اور یقیناً اس لحاظ سے انہیں بھی یہ حق حاصل ہو جاتا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں ۔ اس طرح امت محمدیہ میں صرف محمدی مقام ہی رہ جاتا اور کوئی مقام نہ رہتا۔ تو یہ قدرتی بات ہے کہ جو پہلی نیکی کرے گا وہ زیادہ ثواب کا مستحق ہوگا کیونکہ اس نے بغیر نمونہ کے نیکی کی اور دوسروں نے اس کی نقل میں نیکی کی ۔ یہی حال گناہ کا ہے ۔ جو شخص پہلا گناہ کرتا ہے لیکن ساتھ ہی اس گناہ کو ایجاد بھی کرتا ہے، شریعت کے مطابق اسے زیادہ سزادی جائے گی کیونکہ اسے کہا جائے گا کہ تمہارا یہی قصور نہیں کہ تم نے پہلا گناہ کیا بلکہ تمہارا قصور یہ بھی ہے کہ تم نے اس گناہ کو ایجاد کیا لیکن اگر اس نے غفلت یا نا واقعی سے یا شریعت اور سلسلہ کی تعلیم سے بے خبر ہونے کی وجہ سے ایک گناہ کیا ہو جس سے پہلے وہ قوم روشناس نہ ہو، یہ نہیں کہ اس گناہ کو اس نے ایجاد کیا ہو تو اس جرم کی سزا اسے کم ں نے ایجاد کیا ہوتو اس جرم کی سزا سے ہم ملے گی لیکن جب اسے تنبیہ ہو جائے اور سب لوگوں پر مسئلہ واضح ہو جائے تو اس کے بعد جو شخص