خطبات محمود (جلد 19) — Page 419
خطبات محمود ۴۱۹ سال ۱۹۳۸ ء جھوٹ نہیں بول رہی تھی کیونکہ وہ خیال کرتی تھی کہ فیصلہ وہ ہوتا ہے جو منشاء کے مطابق ہو، جو منشاء کے مطابق نہ ہو وہ فیصلہ نہیں ہوتا ۔ غرض یہ طریق جائز نہیں کہ باہر دکانوں پر بیٹھ کر یا گلی کوچہ میں کھڑے ہو کر قاضیوں پر نکتہ چینی شروع کر دی جائے ۔ ہاں جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ ہر فریق مقدمہ کو حق حاصل ہے کہ وہ قاضی کے فیصلہ کے خلاف اپیل کرے ا کرے اور اس پر ہم کبھی ناراض نہیں ہوتے ۔ البتہ اگر وہ یہ لکھے کہ قاضی جھوٹا اور فریبی ہے تو ہم وہ مسل واپس کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب تک تم یہ الفاظ کاٹو گے نہیں اس وقت تک ہم اس اپیل پر غور نہیں کریں گے کیونکہ ہم جماعت کے اندر یہ معیار اخلاق قائم کرنا چاہتے ہیں کہ جب کسی کے خلاف کوئی فیصلہ ہو تو وہ اسے بد دیانتی پر محمول نہ کرے۔ پس ہم یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ کوئی شخص قاضیوں کے خلاف لوگوں میں شور مچاتا پھرے ہاں یہ جائز ہے کہ وہ اپیل کرے اور ہم نے کئی دفعہ اپیلوں میں قاضیوں کے خلاف سخت ریمارکس کئے ہیں مگر یہ میرا یا دوسری عدالت ہائے مرافعہ کا حق ہے کسی اور کو یہ حق حاصل نہیں ۔ پس آج میں یہ امر واضح کر دینا چاہتا ہوں ۔ کہ ایسے موقع پر بعض دفعہ جماعت کی طرف سے جو اظہا ر نا راضگی ہوتا ہے وہ ملزموں کا ساتھ دینے کی وجہ سے نہیں ہوتا ۔ ہم کسی ملزم کی امداد کرنا ہرگز نا جائز نہیں سمجھتے بلکہ اگر کوئی شخص اس ڈر کے مارے کہ اگر میں نے ملزم کی مدد کی تو لوگ مجھ سے ناراض ہو جائیں گے اس کی جائز امداد بھی نہیں کرتا تو میں اسے شقی القلب اور ناقص مؤمن کہوں گا ۔ ہاں اگر ایک باپ اپنے بیٹے کو مجرم سمجھ کر اس کی مدد سے دستکش ہو جاتا ہے تو وہ واقع میں مؤمن ہے مگر جو جرم کے ثابت ہوئے بغیر جائز دفاع اور جائز مدد سے بھی اسے محروم کر دیتا ہے وہ شقی القلب ہے اور ہرگز کامل مؤمن نہیں ۔ غرض ہم جس بات پر ناراض ہوتے ہیں وہ یہ ہے کہ جھوٹ کے ساتھ ملزم کی مدد کی جائے۔ یہ امر ہمارے لئے قطعاً قابل برداشت نہیں ہے۔ میں نے اس امر کو تفصیل سے اس لئے بیان کیا ہے کہ ہمارے اندر بھی سلسلہ کی قضاء کے بارہ میں غلط فہمیاں ہوتی ہیں ۔ بعض لوگ ملزم کی امداد کو غداری قرار دیتے ہیں ۔ چنانچہ ذرا امور عامہ کسی کے خلاف نوٹس لے تو بعض حلقوں میں اس کی امداد کرنے والوں کو بلا دریغ غدار