خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 416

خطبات محمود ۴۱۶ سال ۱۹۳۸ ء - کہ ملزم کو دفاع سے محروم کیا جائے ۔ اس صورت حالات میں احرار کا جو ہمیشہ ملزموں بلکہ مجرموں کی بھی قومی طور پر امداد کیا کرتے ہیں کوئی حق نہیں کہ وہ ہم پر اعتراض کریں ۔ میں اس موقع پر جماعت کے اندرونی جھگڑوں کے بارہ میں بھی کچھ راہنمائی کر دینا چاہتا ہوں ۔ ہماری جماعت کی طرف سے بھی بعض دفعہ ایسے لوگوں پر اظہار ناراضگی ہوتا ہے جو ملزموں کا ساتھ دیتے ہیں اور ایسے موقعوں پر چونکہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ جب آ کہ جب آپ کے مسلّمہ اصل کے مطابق ملزم کی مدد کرنا جائز ہے تو ہم پر اظہار ناراضگی کی کیا وجہ ہے اور چونکہ یہ کسی قدر باریک سوال ہے اور چونکہ میری اصل غرض اس مضمون کو بیان کرنے سے یہ ہے کہ اصولی طور پر بعض مسائل حل کر دوں اس لئے اس امر پر بھی میں کچھ روشنی ڈال دینا چاہتا ہوں کہ یہ امر ا چھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ جب کبھی مرکز کی طرف سے ناراضگی کا اظہار ہوتا ہے اور مرکز سے مراد میں خود ہوں یا وہ لوگ ہیں جو میرے کہنے پر ناراض ہوتے ہیں ۔ ( ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک ناظر کسی پر بذات خود ناراض ہوا اور غلط طور پر ناراض ہو یا ایک ماتحت افسر کسی پر ناراض ہوا اور غلط طور پر ناراض ہوا اور انہیں وہ مسئلہ معلوم نہ ہو جو میں بتانا چاہتا ہوں ) تو یہ ملزم کے دفاع یا امداد کی وجہ سے اظہار ناراضگی نہیں ہوتا بلکہ غلط امداد یا غلط دفاع کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پس میں جب بھی ناراض ہوتا ہوں یا میرے کہنے کی وجہ سے ناظر ناراض ہوتے ہیں تو ملزم کے دفاع یا اس کی امداد کرنے کی وجہ سے ناراض نہیں ہوتے ہوتے ہم کبھی اس وجہ سے ناراض ، ناراض نہیں ہوتے کہ ملزم کی طرف سے دفاع کیوں نہیں کیا گیا ہے ۔ اسی طرح ہم کبھی اس وجہ سے ناراض نہیں ہوتے کہ ملزم کی امداد کیوں کی گئی ہے بلکہ ہم جب بھی ناراض ہوں گے اس وجہ سے ہونگے کہ ہمارے خیال کی کیا میں ملزم کی غلط امداد یا اس کی طرف سے غلط دفاع کیا گیا ہو گا لیکن جب غلط دفاع نہ ہو یا امداد نہ ہو تو ہم کبھی ناراض نہیں ہوتے ۔ پس ہم کسی پر ناراض نہیں ہوتے بلکہ کسی پر اس امر کی وجہ سے ناراض ہو نہیں سکتے کہ کیوں کسی ملزم کو مجرم ثابت نہیں ہونے دیا جاتا اور یہ تو بڑے اندھیر کی بات ہے کہ ایک شخص پر الزام لگے اور اسے فوراً مجرم قرار دے دیا جائے بلکہ ناراضگی اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ کیوں کسی مجرم کو مجرم ثابت نہیں ہونے دیا جاتا یعنی یہ جانتے ہوئے کہ وہ مجرم ہے جو لوگ یہ ثابت کرنا چاہتے ہوں کہ وہ مجرم نہیں ۔ ان پر ہم ناراض ہوتے ہیں کیونکہ ہم کہتے ہیں