خطبات محمود (جلد 19) — Page 354
خطبات محمود ۳۵۴ سال ۱۹۳۸ ء جو ظلم کا جواب کسی رنگ میں بھی نہیں دے سکتی اور اور آخر اپنے آپ کو ہی پیٹ ڈالتی ہے اب وہ مار پیٹ در حقیقت مار پیٹ نہیں ہو گی بلکہ دھواں ہوگا ماں کے دل کا وہ غبار ہو گا اس کی بے بسی کا ۔ تم اس کی ظاہری شکل پر فتوی نہیں لگا دو گے بلکہ تم اس کے اندرونی احساسات اور جذبات کو دیکھو گے ۔ اسی طرح جہاں تک میں سمجھتا ہوں پشاور کے جس دوست کے متعلق یہ خیالات ظاہر کئے گئے ہیں ان کی حالت بھی ایسی ہی ہے۔ ان کے دل میں بھی ایک جوش پیدا ہوا اور انہوں نے دیکھا کہ اب یہ جوش کسی طرح نکل نہیں سکتا تو جس طرح ماں بعض دفعہ اپنے مظلوم بچے کو پیٹنے لگ جاتی ہے اسی طرح وہ بھی اپنے آدمیوں کو بُرا بھلا کہنے لگ گئے ۔ یہ چیز ظاہر میں بُری ہو گی جیسے مار پیٹ ظاہر میں بُری چیز ہے۔ جیسے یہ امثال بہر حال بُری ہیں کہ میں خدا کے پیر سے کانٹے نکالوں ، اس کے ہاتھ اور پاؤں دباؤں لیکن کہنے والا بُرا نہیں کیونکہ اسے اپنی محبت کے جوش میں کوئی اور ذریعہ سوائے اس کے نہیں ملا۔ بہر حال فعل کا صدور محبت کے نتیجہ میں ہوا ہے کسی برائی کے نتیجہ میں نہیں ہوا۔ میرے نزدیک پشاور کے جس دوست کی باتوں پر اعتراض کیا گیا ہے ، اُن کا اظہار خیال بھی اسی قسم کا ہے۔ یعنی اپنے دل کی تکلیف کو انہوں نے غلط الفاظ میں ادا کر دیا ہے ۔ ور ہے۔ ورنہ واقعہ بتاتا ہے کہ اعتراض ان کے مد نظر نہیں تھا صرف ان کے دل کے دکھ نے کوئی رستہ نکلنے کا نہ دیکھ کر بظاہر معترضانہ شکل اختیار کر لی ہے ۔ جیسے ماں بعض دفعہ اپنے بچے کو ہی پیٹنے لگ جاتی ہے۔ خواہ وہ کسی سے مظلومانہ طور پر مار کھا کر آئے ۔اسی طرح انہوں نے بھی محبت کے رنگ میں قادیان کے لوگوں کو دو چار صلواتیں سنا دیں ۔ پھر میرے نزدیک جس دوست نے شکایت کی ہے اس دوست نے بھی کوئی بُرا کام نہیں کیا اس لئے کہ اس نے اپنے نقطہ نگاہ سے اس کو دیکھا ۔ جن جذبات سے معترض پر تھا ان جذبات سے رپورٹ کرنے والا پر نہیں تھا۔ اُس کی کیفیت بالکل اور قسم کی تھی اور اس کی کیفیت بالکل اور قسم کی ۔ ان میں سے ایک محبت کے مقام پر کھڑا تھا اور دوسرا ادب کے مقام پر اور یہ دونوں مقام اپنی اپنی جگہ اچھے ہیں لیکن بعض دفعہ یہ دونوں مقام ایک دوسرے کے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ یوں اسلام نے یہ دونوں مقام جمع کئے ہیں اور فرمایا ہے کہ کامل ایمان اسی شخص کا ہے جس اور میں محبت اور ادب دونوں ۔ دونوں جمع ہوں لیکن دنیا میں عام طور پر کبھی محبت کا پہلو کا پہلو غالب آجاتا ۔ جاتا ہے اور