خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 338

خطبات محمود ۳۳۸ سال ۱۹۳۸ ء یہ موقع بہت کمزور ہو جاتا ہے اور جو لوگ مؤمنوں کے گھروں میں پیدا ہوں ان کیلئے تربیت ہی سے ایمان کا کمال مقدر ہے ۔ حضرت مسیح موعو علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جماعت کے حالات اور عقائد کے دلائل سے بچہ بچہ واقف ہوتا تھا کیونکہ چاروں طرف مخالف ہی مخالف تھے اور ہر وقت ہمارے کانوں میں یہی آواز پڑتی تھی کہ فلاں مہ ہ فلاں مسئلہ پر یہ اعتراض ہوا ہے اور اس کا جواب یہ ہے ۔ یہی ہماری جدہ سے تھی اور یہی ہمارا کھیل تھا جو ہم کھیلا کرتے تھے۔ مگر اب دار الفضل یا دار الرحمت کے بچوں کے سامنے کوئی سوال رکھ دیا جائے تو وہ اس کا جواب نہیں دے سکیں گے اور انہیں اتنی واقفیت دس سال میں بھی نہیں ہو سکتی جتنی ہمیں ایک سال میں ہو جاتی تھی کیونکہ اب ہمارے بچوں کے کان اعتراضات سے آشنا نہیں ہیں ۔ قادیان یا کسی اور جگہ کے بچے جہاں جماعت زبردست ہو وہ احمدیت کے اہم مسائل سے بھی تفصیلاً بغیر تعلیم کے آگاہ نہیں ہو سکتے لیکن ہمیں بچپن میں ان کی خبر تھی ۔ مجھے یاد ہے میں بہت ہی چھوٹا تھا ہمارے گھر میں دادا صاحب کے زمانہ کی ایک کتاب تھی جس میں لکھا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جبریل کا آنا بند ہو گیا ہے۔ ایک اور بچہ کہیں باہر سے آیا ہو اتھا اس نے کہا یہ بات ٹھیک ہے مگر میں نے ا کہا کہ کیوں تم کس طرح اسے صحیح کہتے ہو اور بچپن میں جیسے دلائل ہوتے ہیں ان کے ساتھ میں نے اس خیال کا رڈ کیا اور کہا کہ ہمارے ابا کو الہام ہوتے ہیں ۔ آخر میں نے اسے کہا کہ چلو حضرت صاحب سے پوچھیں اور ہم کتاب لے کر حضور کے پاس پہنچے ۔ حضور نے ہم دونوں کی بات سن کر فرمایا کہ یہ لڑکا غلط کہتا ہے ، ہم پر جبریل نازل ہوتا ہے۔ تو اس زمانہ میں ہم چونکہ چاروں طرف سے دشمنوں سے ہی گھرے ہوئے تھے یا پرانا لٹریچر ہمارے سامنے رہتا تھا اس لئے وہ باتیں ہر وقت کان میں پڑتی رہتی تھیں مگر اب یہاں ہر طرف احمدی ہی احمدی ہیں اور پرانا لٹریچر بھی احمدی بچوں کے سامنے نہیں آتا اس لئے دشمن کی بات تو پہنچ نہیں سکتی اور اپنے کچھ سناتے نہیں اس لئے سختی کوری کی کوری ہی رہتی ہے۔ دشمن کی بات اس لئے نہیں سن سکتے کہ دوستوں سے گھرے ہوئے ہیں اور دوست سستی کر رہے ہیں نتیجہ یہ ہے کہ بالکل کورے کے کو رے رہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں وہ جوش وخروش کہاں رہ سکتا ہے۔ پس سلسلہ کی تحریکات سے ہر فرد کو واقف کرنا اہم قومی فرائض میں سے ہے۔