خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 298

خطبات محمود ۲۹۸ ۱۷ سال ۱۹۳۸ ء یا جوج ماجوج کی حقیقت اور اسلامی تعلیم کا نفاذ فرموده ۱۰ رجون ۱۹۳۸ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : - در مسیح موعود کے زمانہ کے متعلق قرآن کریم میں یہ خبر دی گئی ہے اور احادیث میں بھی متواتر اور کثرت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ اُس وقت دو طاقتیں جو آپس میں ایک دوسرے کی مخالف ہوں گی ظاہر ہوں گی ۔ ان میں سے ایک طاقت کا نام یا جوج رکھا گیا ہے اور دوسری طاقت کا نام ماجوج رکھا گیا ہے اور چونکہ بظاہر دو مخالف طاقتیں تیسری طاقت سے سمجھوتے کی کوشش کیا کرتی ہیں یعنی اگر تین طاقتیں دنیا میں ہوں تو دو مخالف طاقتیں ہمیشہ اُس سے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور ہر ایک ان میں سے چاہتی ہے کہ اس کی ہمدردی ہمیں حاصل ہوا اور اس کا تعاون ہمارے ساتھ ہو اور بظاہر انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اگر ایک علیحدہ گروہ ہیں تو مخالف طاقتوں میں سے کسی کی ہمدردی یا تعاون ہمیں حاصل ہو ہی جائے گا اس لئے ہو سکتا تھا کہ مسیح موعود کی جماعت بھی اس وہم میں مبتلا ہو جاتی کہ شاید ان میں سے کسی ایک گروہ کا ہم سے تعاون ہو جائے گا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وہم کو دور کرنے اور اس خیال کی تکذیب کرنے کیلئے پھر ان دونوں کا ایک مجموعی نام رکھ دیا اور وہ نام دجال ہے اور اس طرح بتا دیا کہ گو یا جوج اور ماجوج دونوں آپس میں مخالف ہوں گے لیکن اسلامی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے دونوں ہی اس کے مخالف ہوں گے اور اسلامی تعلیم کی تائید کی اِن دونوں سے ہی امید