خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 286

خطبات محمود ۲۸۶ سال ۱۹۳۸ ء نہیں ہو سکتا اور اور نعمت بغیر تحدیث کے نہیں ہو سکتی اس لئے ہر مؤمن کیلئے تحدیث بالنعمت ضروری ہے ۔ دراصل ایمان کا مقام احسان کا مقام ہے اور مؤمن اور محسن ایک ہی چیز ہیں ۔ کوئی مؤمن ایسا نہیں ہو سکتا جو محسن نہ ہو اور کوئی ایسا حقیقی محسن نہیں ہو سکتا جو مومن نہ ہو ۔ اس مدارج میں کوئی شبہ نہیں کہ جیسے ایمان کے مختلف مدارج ہیں اسی طرح احسان کے بھی مختلف ہیں ۔ مگر بہر حال وہ شخص جس میں کامل درجہ پر ایمان پایا جائے گا اس میں کامل درجہ پر احسان بھی پایا جائے گا اور جس میں کم درجہ کا ایمان ہوگا اس میں کم درجہ کا احسان پایا جائے گا ۔ اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محسن وہ ہے جو اس یقین اور وثوق کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے ۔ اور اگر یہ یقین اسے حاصل نہ ہو تو اس سے اُتر کر اس میں اتنا یقین ضرور ہوتا ہے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔ گویا محسن کی دو حالتوں میں سے ایک حالت ضرور ہوتی ہے یا تو اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جس وقت وہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی شکل اس کے سامنے آجاتی ہے ۔ جب وہ کہتا ہے الْحَمْدُ یہ تو یہ کہنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کاملہ کا نقشہ اس کے سامنے کھیچ جاتا ہے اور اس کے انعامات اسے یاد آنے شروع ہو جاتے ہیں ۔ اور جب وہ کہتا ہے رب العلمین تو اس کیلئے اسے کہیں دور جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی بلکہ رب العلمین اس کے دل میں بیٹھا ہوا ہوتا ہے اور اس کی ربوبیت کے فیضان اس کے سامنے آنے شروع ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح جب وہ کہتا ہے الرّحمنِ تو اس کی صفت رحمانیت کی جلوہ گری سامنے آجاتی ہے۔ جب الرحیم کہتا ہے تو اس کی رحیمیت کا نقشہ اس کی آنکھوں کے سامنے کھیچ جاتا ہے اور جب ملک یوم الدین کہتا ہے تو اس کی مالکیت کا تصور اس کے جسم کے ذرہ ذرہ کو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکا دیتا ہے۔ گویا وہ صرف اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کے اسماء نہیں نکالتا بلکہ اپنی ذات میں اس کی ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمیت اور مالکیت یوم الدین کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس کی صفات کو جلوہ گر ہوتا ہوا پاتا ہے ۔ پس محسن کی یا تو یہ حالت ہوتی ہے اور یا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے اتر کر اس کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ عبادت کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو گو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے مگر بہر حال وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔