خطبات محمود (جلد 19) — Page 250
خطبات محمود ۲۵۰ سال ۱۹۳۸ ء خلیفہ غلطی نہیں کر سکتا۔ اور بشری انتظام میں جب نبی بھی غلطی کر سکتا ہے تو خلیفہ کی کیا حیثیت ہے۔ پس یقیناً خلیفہ بھی غلطی کر سکتا ہے ۔ سوال یہ نہیں کہ امکان کیا ہے بلکہ یہ ہے کہ موقع کا تقاضا کیا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک باپ اپنے لڑکے کی تعلیم و تربیت کے متعلق فیصلہ کرنے میں غلطی کر جائے لیکن کیا اس غلطی کے امکان کی وجہ سے اپنے لڑکے کی تعلیم و تربیت کے متعلق انتظام کا اسے جو حق ہے وہ مارا جاتا ہے۔ ساری دنیا بالاتفاق اس بات کو مانتی ہے کہ باپ خواہ فیصلہ غلط کرے یا درست ، اپنے لڑکے کی تعلیم و تربیت کے متعلق فیصلہ کرنے کا حق بہر حال اُس کو ہے ۔ یہی صورت خلیفہ کے بارہ میں ہے۔ اس کی نسبت غلطی کا امکان منسوب کر کے اس کی ذمہ داری کو اڑا یا نہیں جا سکتا لیکن یہ ادنی تمثیل ہے۔ باپ اور خلیفہ کے مقام میں کئی فرق ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہماری شریعت کہتی ہے کہ خدا تعالیٰ جسے خلیفہ بناتا ہے اُس سے ایسی اہم غلطی نہیں ہونے دیتا جو جماعت کیلئے نقصان کا موجب ہو۔ گویا عصمت کبری تو بطور حق کے انبیاء کو حاصل ہوتی ہے لیکن عصمت صغری خلفاء کو بھی حاصل ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں وعدہ فرماتا ہے کہ جو کام خلفاء کریں گے اُس کے نتیجہ میں اسلام کا غلبہ لازمی ہوگا۔ ان کے فیصلوں میں تجزئی اور معمولی غلطیاں ہو سکتی ہیں ، ادنی کوتا ہیاں ہو سکتی ہیں مگر انجام کا نتیجہ یہی ہوگا کہ اسلام کو غلبہ اور اس کے مخالفوں کو شکست ہوگی یہ خلافت کیلئے ایک معیار قائم کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ کے دین کے معنے مذہب کے بھی ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے بھی دیکھ لو خلفائے اربعہ کا ہی مذہب دنیا میں قائم ہوا ہے ۔ بے شک بعض علیحدہ فرقے بھی ہیں مگر وہ بہت اقلیت میں ہیں ۔ اکثریت اسی دین پر قائم ہے جسے خلفائے اربعہ نے پھیلا یا مگر دین کے معنے سیاست وحکومت کے بھی ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ جس سیاست اور پالیسی کو وہ چلائیں گے اللہ تعالیٰ اسے ہی دنیا میں قائم کرے گا اور بوجہ اس کے کہ ان کو عصمت صغریٰ حاصل ہے ، خدا تعالیٰ کی پالیسی بھی وہی ہوگی ۔ بے شک بولنے والے وہ ہوں گے، زبانیں انہی کی حرکت کریں گی ، ہاتھ انہی کے چلیں گے اور پیچھے دماغ انہی کا کام کرے گا مگر دراصل ان سب کے پیچھے خدا تعالیٰ ہوگا ۔ کبھی ان سے مجزئیات میں غلطیاں ہوں گی ، کبھی ان کے مشیر غلط مشورہ دیں گے ۔