خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 198

خطبات محمود ۱۹۸ سال ۱۹۳۸ ء میں اگر بچے اور نوجوان شریک نہ ہوں تو یہ سکیم کس طرح چل سکتی ہے ۔ مثلاً نکما نہ رہنا ہے اب لکھے پن کی عادت بچوں میں ہی ہوسکتی ہے، بڑے تو اپنی اپنی جگہ کام کر رہے ہوتے ہیں اور ان میں سے کئی آسودہ حال ہوتے ہیں لیکن ان کی نئی نسل یہ کہنا شروع کر دیتی ہے کہ ہمارے ابا نواب ، ہمارے ابا فلانے ، ہم فلاں کام کیوں کریں اِس میں ہماری ہتک ہے اور پھر تمام خرابیاں اسی سے پیدا ہوتی ہیں حالانکہ اگر ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی جائے اور ان کے قلوب پر اس کا نقش کر دیا جائے کہ جو شخص کام کرتا ہے وہ عزت کا مستحق ہے اور جو کام نہیں کرتا بلکہ نکتا رہتا ہے وہ اپنی قوم اور اپنے خاندان کیلئے عار اور ننگ کا موجب ہے اور یہ کہ معمولی دولتمند یا زمیندار تو الگ رہے اگر ایک بادشاہ یا شہنشاہ کا بیٹا بھی نکتا رہتا ہے تو وہ بھی اپنی قوم اور اپنے خاندان کیلئے عار کا موجب ہے اور اس چمار کے بیٹے سے بدتر ہے جو کام کرتا ہے۔ تو یقیناً اگلی نسل درست ہو سکتی ہے اور پھر وہ نسل اپنے سے اگلی نسل کو درست کر سکتی ہے اور وہ اپنے سے اگلی نسل کو ۔ یہاں تک کہ یہ باتیں قومی کریکٹر میں شامل ہو جائیں اور ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جائیں کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ جو باتیں قوم کی عادت بن جاتی ہیں وہ ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جاتی ہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عادت ایک لحاظ سے بُری ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ ایک لحاظ سے وہ اچھی بھی ہوتی ہے ۔ جب کوئی قوم بیدار ہو اور اُس وقت وہ اپنے اندر اچھی عادتیں پیدا کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ قوم سو جاتی ہے تو اُس کی عادت اُس کے ساتھ رہتی ہے اور اس طرح وہ نیکی ضائع نہیں جاتی بلکہ محفوظ رہتی ہے۔ چاہے وہ خود اس سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ کوئی اور اس سے فائدہ اُٹھائے ۔ اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں تین قسم کے انسان ہوتے ہیں ۔ ایک کی مثال تو اُس کھیت کی سی ہوتی ہے جس میں پانی آتا ہے اور وہ اپنے اندر جذب کر لیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں سے خوب کھیتی نکلتی ہے۔ اور ایک کی مثال اس زمین کی سی ہوتی ہے جس میں پانی آ کر جمع تو ہو جاتا ہے مگر کھیتی نہیں اُگتی دوسرے لوگ اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔ اور ایک کی مثال اُس کنکریلی زمین کی سی ہوتی ہے جہاں پانی آتا ہے تو نہ اُس زمین میں جذب ہوتا ہے اور نہ اُس میں محفوظ رہتا ہے ۔ کے اسی طرح انسان بھی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ ہوتے ہیں جو الہی نور اپنے اندر جذب