خطبات محمود (جلد 19) — Page 181
خطبات محمود ۱۸۱ سال ۱۹۳۸ ء قربانی کرنے کیلئے نہیں اُٹھا۔ حالانکہ ان میں ابوبکر بھی موجود تھے، ان میں عمر بھی موجود تھے، ان میں عثمان بھی موجود تھے ، ان میں علی بھی موجود تھے ۔ غرض وہ سب صحابہ ان میں موجود تھے جن میں سے مسلمانوں کا کوئی فرقہ کسی کو اور کوئی کسی کو بڑا قرار دیتا ہے مگر ان میں سے ایک بھی تو ا کھڑا نہیں ہوا اور سب خاموش بیٹھے رہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ آپ نے حکم دیا مگر صحابہ نے نافرمانی کی وجہ سے نہیں بلکہ وفور جذبات سے مجبور ہو کرا اس کی تھوڑی دیر دیر کیلئے کے تعمیل نہ کی ۔ چونکہ یہ خفیف سی دیر بھی پہلی مثال تھی آپ اپنے خیمہ میں گئے اور اپنی ایک بیوی سے جو ساتھ تھیں فرمایا میں نے آج ایک ایسی بات دیکھی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہوا ؟ آپ نے فرمایا میں نے اپنے صحابہ میں کبھی اطاعت کے لحاظ سے کمی نہیں دیکھی مگر آج میں نے انہیں حکم دیا کہ قربانیاں کر دو تو ان میں سے ایک بھی نہیں اٹھا ۔ اُمّ المؤمنین فرمانے لگیں يَا رَسُولَ اللہ ! آپ جانتے ہیں انہیں کیسا صدمہ ہوا ہے۔ وہ اس صدمہ سے پاگل ہورہے ہیں آپ کسی سے بات نہ کریں اور خاموشی سے اپنی قربانی کر دیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے : نے جب یہ نہایت ہی نیک مشورہ سنا تو آپ نے ا نے اسے پسند کیا اور خاموشی سے اپنی قربانی کے پاس گئے اور اُسے ذبح کر دیا۔ اخلاص آخرا خلاص ہی ہوتا ہے ۔ بے شک صبر کی آزمائش بڑی تلخ تھی اور ایک لمحہ کیلئے صحابہ میں ہچکچاہٹ پیدا ہوئی مگر جب انہوں نے دیکھا کہ وہ شخص جس کے اشارہ پر وہ اپنی جانیں قربان کرتے رہے ہیں ، جس کی تعلیم کے ماتحت انہوں نے نہ صرف اپنی زندگیوں کو بلکہ اپنے باپوں ، اپنی ماؤں ، اپنے بھائیوں اور اپنے بچوں کو قربان کر دیا تھا ، آج وہ اس خاموشی سے بغیر اس کے کہ ہم میں سے کسی کو اپنی مدد کیلئے بلائے ، قربانی کرنے جا رہا ہے تو ایک دم اُن کے دل پگھل گئے اور بے اختیار دوڑ دوڑ کر انہوں نے اپنے جانور ذبح کرنے شروع کر دیئے ۔ اے اسے اب دیکھ لولڑائیوں کے موقع پر تو انہوں نے یہ کہا کہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے ، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور پھر اپنے عمل سے اس قول کو سچا ثابت کر دکھایا مگر صبر کے مواقع میں سے ایک موقع ایسا آیا کہ ان کیلئے صبر کرنا مشکل ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حکم کی تعمیل کو انہوں نے ایک منٹ کیلئے پیچھے ڈال ڈال دیا۔