خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 170

خطبات محمود ۱۷۰ سال ۱۹۳۸ ء کوئی گھبراہٹ کا موقع نہیں اور اس طرح باوجود اپنے دل میں کسی قدر ایمان رکھنے کے وہ قربانی کے صحیح مقام پر کھڑا نہیں ہوتا اور دھوکا میں مبتلا رہتا ہے۔ مگر جہاں لڑائی ہو رہی ہو، جہاں تلواریں چل رہی ہوں ، جہاں کفار اپنی پوری طاقت سے مسلمانوں کو مٹانے کیلئے حملہ آور ہوں تلواریں چل رہی ہوں ، جہاں کفار اپنی پوری طاقت سے وہاں نفس انسان کو دھوکا نہیں دے سکتا ۔ وہاں جب کبھی دھوکا دے گا اس رنگ میں دے گا کہ اسلام کو چھوڑو ، اس میں شامل رہ کر تو مصائب ہی مصائب برداشت کرنے پڑتے ہیں مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ خطرہ کوئی نہیں ۔ مثلاً جب کفار مکہ کا لشکر آگیا اور مسلمانوں نے دیکھ لیا کہ ابو جہل یا ابوسفیان اس کا کمانڈ رہے اور ہزاروں آدمی اس لشکر میں شامل ہو کر مدینہ پر حملہ کرنے کیلئے تیار ہیں تو اُس وقت کونسا کمزور سے کمزور مسلمان بھی کہہ سکتا تھا کہ کوئی خطرہ نہیں ، یہ محض وہم ہے۔ لیکن اگر دشمن کا حملہ مخفی ہے یا ظاہری سامانِ حرب کی بجائے دلائل سے وہ اسلام کے قلعہ پر حملہ آور ہے یا مختلف رنگ کی سازشوں سے وہ اسلام کو کچلنا چاہتا ہے یا منافقت کے ساتھ مسلمانوں میں شامل رہ کر اسلام کو ضعف پہنچانا چاہتا ہے تو ان تمام صورتوں میں جب کہا جائے گا کہ آؤ اور قربانی کرو تو بہت سے کمزور طبع لوگ یہ کہنے لگ جائیں گے کہ یونہی ڈرا رہے ہیں دشمن کی طرف سے تو کوئی حملہ نظر نہیں آتا ۔ پس اس وجہ سے یہ ابتلاء زیادہ خطرناک ہوتے ہیں اور اگر پہلی قسم کے ابتلاء میں بعض کمزور ایمان والے بچ بھی جاتے ہیں اور وہ خطرہ کو اپنے سامنے دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ قربانی کا وقت آگیا ہے تو دوسری قسم کے ابتلاء میں باوجو د ایمان رکھنے کے بعض لوگ تباہ ہو جاتے ہیں کیونکہ جو قربانی کا وقت ہوتا ہے اسے وہ محض اس وجہ سے که دشمن کا حملہ مخفی ہوتا ہے کھو بیٹھتے ہیں ۔ پھر دوسرا خطرہ جمالی زمانہ کی قربانیوں میں یہ ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ لمبی قربانیوں سے گھبرا جاتے ہیں ۔ کئی دفعہ میں نے مثالوں سے بھی اس بات کو ثابت کیا ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جنہیں اگر یہ کہا جائے کہ جاؤ اور دشمن سے لڑ کر مر جاؤ تو وہ فوراً اپنی جان دینے کیلئے تیار ہو جا ئیں گے لیکن اگر روزانہ اُن سے تھوڑی تھوڑی قربانی کا مطالبہ کیا جائے تو وہ رہ جائیں گے اور قربانی میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگ جائیں گے ۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت یہ خبر دی ہوئی ہے کہ جماعت پر ابتلاء پر ابتلاء