خطبات محمود (جلد 18) — Page 90
خطبات محمود ۹۰ سال ۱۹۳۷ء فوراً ایک ایک پرچہ تمام بیرونی جماعتوں کو بذریعہ ہوائی ڈاک ارسال کر دے تا اُن کو بھی کافی وقت جلسہ کی تیاری کیلئے مل جائے ۔ اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت میں رشتوں ناطوں کے متعلق بہت سی دقتیں پیش آ رہی ہیں ۔ یہ مضمون بہت لمبا ہے اور میں سمجھتا ہوں اس وقت میں اس کے متعلق کما حقہ بول نہیں سکتا ۔ لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ مشکلا مشکلات اس حد تک احد تک پہنچ چکی ہیں کہ مجھے اس یہ یہ کے متعلق اجمالاً کچھ نہ کچھ باتیں ضرور کہہ دینی چاہئیں ۔ تفصیلات اِنْشَاءَ اللَّهِ الْعَزِيزِ اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو کسی آئندہ خطبہ میں بیان کر دوں گا۔ اس مسئلہ پر جہاں تک میں نے غور کیا ہے ہمارے لئے اس میں چند ایک مشکلات ہیں ۔ اول یہ کہ دوسرے مسلمانوں میں عام طور پر پرانے خاندانوں کی کثرت ہے۔ ان میں باہم بیسیوں رشتے ہوتے ہیں اور وہ ان کی وجہ سے ایک دوسرے کیلئے قربانی کرنے کو تیار رہتے ہیں ۔ ان حالات میں بعض اوقات رشتہ داریاں ایسے غریب لوگوں سے بھی ہو جاتی ہیں جن سے عام حالات میں نہیں ہوسکتیں ۔ بعض جگہ بعض امراء اور نواب دیکھے گئے ہیں جنہوں نے بعض غریب لوگوں کو لڑکیاں دے رکھی ہیں محض اس لئے کہ ان کے ساتھ پرانی رشتہ داریاں تھیں اور اس وجہ سے وہ ان کو ممنون کرنا چاہتے تھے ۔ یہ صورت بھی رشتہ داری کی مشکلات کو حل کرنے والی ہے اس لئے کہ امراء کو جب کوئی رشتہ اپنے سے بڑا یا اپنا ہم مرتبہ نہ ملے تو وہ غریب کو بھی لڑکی دے دیتے ہیں ۔ مگر ہماری جماعت میں یہ وقت ہے کہ کسی خاندان کا ایک فرد احمدی ہو گیا ، کسی کے دو اور کسی کے چار ۔ نئے خاندان جن سے ان کا جوڑ ہو سکتا ہے یعنی احمدی ان کے ساتھ ایک دوسرے کا خونی تعلق کوئی نہیں ہوتا۔ پچھلے حالات میں اپنے خاندان کے اندر تو وہ کسی غریب کو بھی رشتہ دینے کیلئے تیار ہو سکتے تھے مگر یہاں آکر وہ ضرور اپنے سے بالا رشتہ ہی تلاش کرتے ہیں ۔ وہ رشتہ داریوں کا تعلق یا آپس کا دباؤ جن کی وجہ سے لڑکیوں کے حقوق محفوظ سمجھتے جاتے ہیں یہاں نہیں ۔ اس لئے یہاں ایسی باتوں کا خیال کیا جاتا ہے جن کا عام طور پر خاندانی رشتوں کے وقت نہیں کیا جاتا۔ دوسری وقت یہ ہے کہ مختلف خاندانوں کے افراد جماعت میں داخل ہوتے ہیں ۔ ہندوستان میں ہزار ہا قبائل اور بیسیوں اقوام ہیں اور اگر ساری دنیا کی اقوام کو لے لیا جائے تو وہ سینکڑوں ہزاروں کی ہوں گی ۔ پس یہ جو ہزاروں قبائل اور سینکڑوں اقوام اس ملک میں آباد ہیں ، ان سب میں سے تھوڑے