خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 8

خطبات محمود A سال ۱۹۳۷ء غیر ممالک کو جاتے ہیں اور اس لئے تکالیف اُٹھاتے ہیں کہ بیماروں کا علاج کریں ۔ کوئی انگلستان کو چھوڑ کر چین چلا جاتا ہے، کوئی افریقہ کے جنگلوں میں مارا مارا پھر رہا ہے ، کوئی ہندوستان میں آ کر کوڑھیوں کے علاج میں مصروف ہے تو دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ آجکل کے لوگ بہت متمدن ہیں اور دوسرے کی جان لینے کی بجائے اسے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر اس کے بالمقابل ہم یہ دیکھیں کہ ہزاروں لوگ ایسی ایجادیں کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ جن کے ذریعہ اً کے ذریعہ ایک حملہ سے سینکڑوں ۔ ٹروں ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں یا عمر بھر کیلئے بیکار ہو جاتے ہیں تو عقل یہ تسلیم کرنے سے عاجز آجاتی ہے کہ بچانے والے افعال انسانیت اور تمدن کا نتیجہ تھے۔ اگر اُس زمانہ کا انسان ترقی کر چکا ہوتا ، زیادہ متمدن ہو چکا ہوتا، پہلوں سے زیادہ مہذب ہوتا ، انسانیت کے زیادہ قریب ہو چکا ہوتا تو یہ کیونکر ممکن تھا کہ ایک بھائی تو ایک جان کو بچانے کیلئے اپنا وطن چھوڑتا اور دوسرا بھائی جس سے پہلے کو بھی پوری ہمدردی ہے اس لئے گھر سے نکلتا کہ نہتے اور کمزور ہزاروں انسانوں کو ایک ہی بم سے اڑا دے ۔ اگر تہذیب نے ترقی کی ہوتی تو لوگوں کا اکثر حصہ ہمیں ایسا نظر آتا جو ایسے جان لینے کے ذرائع کو حقارت کی نظر سے دیکھتا لیکن ہمیں نظریہ آتا ہے کہ انسان کی جان لینے کیلئے اور ایسی ایجادیں کرنے کیلئے کہ کس طرح مخالف کو آسانی سے اپاہج اور بیکا ر کیا جا سکتا ہے ، اتنے آدمی مصروف ہیں کہ جان بچانے کی فکر کرنے والے اتنے نہیں ۔ پھر جو جان بچانے کی فکر میں ہیں ان کے دل بھی ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو جان لینے والی ایجادات کرنے میں منہمک ہیں ۔ جب جرمنی سے جنگ ہو رہی تھی کیا انگلستان کے وہ ڈاکٹر جو اپنی رحم دلی کا ثبوت دینے کیلئے ہندوستان میں کوڑھیوں کے علاج میں مصروف تھے یا ملیریا کے ازالہ کیلئے کام کر رہے تھے، اُن کے دلوں سے ہر وقت یہ آواز نہیں اُٹھ رہی تھی کہ خدا ہمارے بھائی کو طاقت دے تا وہ زیادہ سے زیادہ جرمنوں کے سر کاٹ سکے اور کیا وہ درخواستیں نہیں کر رہے تھے کہ انہیں بھی جنگ میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے تا وہ اپنے جان بچانے والے کام کو چھوڑ کر جان لینے کا کام کر کے راحت حاصل کر سکیں اور پھر کیا یہی حال آسٹرین اور جرمنوں کا بھی نہیں تھا ؟ ہزاروں ڈاکٹر جو ہمیشہ مریضوں کو تسلی دیتے تھے کہ ہم ہر قربانی کر کے تمہاری جان بچائیں گے کیا اُس وقت سارا زور نہیں لگا رہے تھے کہ جس طرح بھی ہو سکے اپنے مخالفوں کی جانیں زیادہ سے زیادہ نکال سکیں ۔ پس اس نظارہ کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ انسان نے تہذیب و تمدن میں ترقی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان نے تہذیب و تمدن میں نہیں