خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 657 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 657

خطبات محمود ۶۵۷ سال ۱۹۳۷ء فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے تو کسی وقت انسانوں کی انسانیت سے مایوس ہو جانا محض حماقت اور نادانی ہے۔ یہی مایوسی جب اپنی ذات کے متعلق پیدا ہوتی ہے تو انسان گناہوں میں بڑھ جاتا ہے اور یہی مایوسی جب دوسرے لوگوں کے متعلق اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے تو وہ تبلیغ چھوڑ دیتا ہے۔ اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے آپ سے مایوس ہو کر اپنے نفس کی اصلاح ترک کر دیتا ہے وہی وقت اُس کی اصلاح اور روحانی ترقی کا ہوتا ہے۔ مگر وہ عین وقت پر اپنی کوششوں کو چھوڑ دیتا اور اس طرح عظیم الشان نیکیوں کے حصول سے کلیہ محروم ہو جاتا ہے ۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے کہ قسمت تو میری دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا یہی اس شخص کی مثال ہوتی ہے ۔ وہ کوشش کرتا ہے اور کرتا ہے اور کرتا چلا جاتا ہے مگر جس وقت اُس پر ا فضل نازل ہونے والا ہوتا ہے اور تاریکی وظلمت کا پردہ اُٹھنے والا ہوتا ہے وہ کہتا ہے مجھ سے اپنی اصلاح نہیں ہو سکتی اور مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے اور پھر ہمیشہ کیلئے گناہوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان گناہوں میں کتنا ہی ملوث کیوں نہ ہو اگر وہ یہ کوشش کرتا رہتا ہے کہ میں گنا ہوں سے بچوں اور اسی کوشش میں اُس کی موت واقع ہو جائے تو جہاں تک میں نے اسلام اور قرآن کا مطالعہ کیا ہے میرا مذہب یہی ہے کہ وہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا مستحق ہوگا ، سزا کا نہیں ہوگا۔ کیونکہ اگر وہ واقعہ میں گناہوں کی دلدل میں پھنس گیا تھا اور اس نے اس دلدل سے نکلنے کی پوری کوشش کی اور کوشش کرتا چلا گیا اور اسی حالت میں اُسے موت آگئی تو موت پر اُس کا کیا اختیار تھا کہ وہ اُسے روک سکتا ۔ یہ موت خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس پر آئی اور اس موت کے آجانے کی وجہ سے وہ گنا ہوں کی دلدل سے نکلنے سے محروم رہا۔ ورنہ اگر موت نہ آتی تو ممکن تھا وہ گنا ہوں سے پاک ہو جاتا ۔ پس چونکہ موت خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی اور اس پر ایسی حالت میں آئی جبکہ گنا ہوں سے نکلنے کی وجہ پوری کوشش کر رہا تھا۔ اس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ خدا تعالیٰ اسے یہ کہے کہ جا جہنم میں ۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے جہنم میں جانے کا باعث خدا تعالیٰ کا فعل ہوگا ( نَعُوذُ بِاللهِ ) اس کا نہیں ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس عقیدہ سے گناہوں پر دلیری پیدا ہو جاتی ہے مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ فیصلہ کرنا کہ وہ گناہوں کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا یا نہیں ، خدا تعالیٰ کا کام ہے ۔ انسان کو کیا پتہ کہ میں