خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 652 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 652

خطبات محمود ۶۵۲ سال ۱۹۳۷ء اشاعتِ اسلام ۔اور اس بات کیلئے بھی تیار ہوں کہ اگر کبھی وہ نظام کے لئے موزوں ثابت نہ ہوں تو بے شک ان کو الگ کر دیا جائے خواہ دُنیوی لحاظ سے ان کو کیسا بھی نقصان کیوں نہ پہنچ چکا ہو۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے نوجوان ان شرائط کے ماتحت جلد از جلد اپنے نام پیش کریں گے تا اس سکیم پر کام کرسکیں جو میرے مد نظر ہے ۔ ہم آدمی تو تھوڑے ہی لیں گے مگر جو چند آدمی سینکڑوں میں سے چنے جائیں گے وہ بہر حال ان سے بہتر ہوں گے جو پانچ سات میں سے چنے جائیں گے۔ پچھلی مرتبہ قریباً دوسو نو جوانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا اور مجھے امید ہے کہ اب اس سے بھی زیادہ کریں گے ۔ جنہوں نے پچھلی مرتبہ اپنے آپ کو پیش کیا تھا وہ اب بھی کر سکتے ہیں ۔ بلکہ جو کام پر لگے ہوئے ہیں وہ بھی چاہیں تو اپنے نام پیش کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی تین سال کی مدت ختم ہو گئی ہے ۔ بعض ان میں سے ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تین سال تو ہم جانتے نہیں جب ایک دفعہ اپنے آپ کو پیش کی آپ کو پیش کر دیا تو پھر پیچھے کیا ہٹنا ہے۔ ان کو بھی قانون کے ماتحت پھر اپنے نام پیش کرنے چاہئیں کیونکہ پہلے ہمارا مطالبہ صرف تین سال کیلئے تھا۔ اور جو بھی اپنے آپ کو پیش کریں پختہ عزم کے اور ارادہ کے ساتھ کریں۔ کیونکہ ڈھلمل آدمی اپنے لئے بھی اور دوسروں کیلئے بھی مصیبت کا موجب ہوتا ہے ۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم میں سے ہر ایک بچے بوڑھے، جوان، مرد، عورت، چھوٹے بڑے کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ عزم صمیم کے ساتھ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے کھڑا ہو جائے جس کا مطالبہ ہم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ کیا گیا ہے اور وہ ہمارے کاموں میں برکت دے تا ہم اس میں کامیاب ہو سکیں ۔ اللَّهُمَّ آمِينَ ( الفضل ۲۲ دسمبر ۱۹۳۷ ء ) ا الانفال : ٦ سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۸۹ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء متی باب ۵ آیت ۳۹ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور ۱۹۲۲ء بخاری کتاب الصوم باب اجود ما كان النبي صلى الله عليه وسلم (الخ) بنی اسرائیل: ۲۷