خطبات محمود (جلد 18) — Page 648
خطبات محمود ۶۴۸ سال ۱۹۳۷ء نکلیں اور باہر جائیں ۔ تحریک جدید کے شروع میں بھی میں نے دوستوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی اور بہت سے نوجوان نکلے بھی تھے مگر ان کے نکلنے کا طریق زیادہ مفید نہیں تھا۔ اور اس لئے جن ممالک میں ہم جانا چاہتے تھے اور جس رنگ میں کام کرنا چاہتے تھے نہیں کیا جا سکا ۔ بے شک انہوں نے قربانیاں کیں مگر صحیح طریق پر ان کی قربانیوں کو استعمال نہیں کیا جا سکا۔ اس لئے میں دوستوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس رنگ میں اپنے آپ کو وقف کریں کہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مبلغ بن سکیں ۔ میں نے پچھلے سے پچھلے خطبہ میں بھی بیان کیا تھا کہ ہمیں ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو یا تو انگریزی دان ہوں اور ہم انہیں دینی تعلیم دلاویں۔ یا ایسے عالم ہوں جن کو یورپین زبانیں سکھا لیں۔ پہلا حملہ تو ہو چکا۔ اُس وقت ہمیں جو ملا اور اُسے جہاں بھیجنا پسند کیا بھیج دیا۔ اس سے ہم نے تجربہ حاصل کیا ، نتیجہ نکالا ، خطرات دیکھے، فوائد کا مشاہدہ کیا اور آئندہ کیلئے نقائص کو دور کرنے کیلئے اپنے ذہن میں بعض تدابیر کا اندازہ کیا۔ اب دوسرا قدم ہمیں ایسے رنگ میں اُٹھانا چاہئے کہ یا تو یورپین زبانوں کے ماہرین کو دین سکھائیں اور یا علماء کو زبانیں سکھا کر باہر بھیجیں تا وہ باہر جا کر مکمل تبلیغ کر سکیں ۔ پس جماعت کے نوجوانوں کو میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ آگے آئیں ۔ پہلا تجربہ ان کے سامنے موجود ہے اس لئے وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو پیش کریں ۔ جس وقت فوری ضرورت ہواُس وقت کا معیار اور ہوتا ہے اور دوسرے وقت کا اور ۔ اُس وقت ہم صرف تجربہ کرنا چاہتے تھے کہ کس طرح آواز کو غیر ممالک میں پہنچا سکتے ہیں اور دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ ہم میں ایسے نوجوان موجود ہیں جو خطرات سے بے پرواہ ہو کر اسلام کی تبلیغ کیلئے با ہر نکل جائیں ۔ لیکن اب ہم مستقل صورت قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہمارے پاس مستقل طریق پر کام کرنے والے ہوں ۔ اور جو ایسے اخلاص اور جذبہ اطا اطاعت کے ماتحت اپنے آپ کو پیش کریں کہ جس میں کوئی کیا اور کیوں نہ ہو ۔ جو شخص کیا اور کیوں کہتا ہے وہ کبھی سپاہی نہیں بن سکتا ۔ سپاہی وہی ہوسکتا ہے جو ان الفاظ کو بھول جائے اور جو شخص اطاعت اور فرمانبرداری کا مفہوم جانتا ہے وہ سوال نہیں کیا کرتا۔ حکم کے مقابلہ میں کیوں اور کیا نہیں پوچھا کرتا ۔ پس کامل اطاعت اور فرمانبرداری نہایت ضروری ہے۔ اور یہ صرف خلیفہ سے ہی مخصوص نہیں ۔ بعض لوگ اس وہم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ بس خلیفہ کی بات ماننا ہی ضروری ہے اور کسی کی ضروری