خطبات محمود (جلد 18) — Page 560
خطبات محمود ۵۶۰ سال ۱۹۳۷ء تُرْجَعُونَ ) فَتَعْلَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ میں بیان کی ہیں ۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے دنیا کو کھیل کے طور پر نہیں بنایا بلکہ اس لئے بنایا ہے کہ ہم ملک میں ، ہم الحق ہیں ، ہم لا إِلهَ إِلَّا هُوَ ہیں ، ہم رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ہیں ۔ گویا یہ چاروں صفات ہیں جنہوں نے تقاضا کیا کہ ہم اپنے آپ کو ظاہر کریں۔ پس ہم نے اپنے آپ کو ظاہر کیا مگر کس طرح رَبُّ العالمین کی صورت میں، الرحمن کی صورت میں ، الرحیم کی صورت میں اور ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی صورت میں اور یہ چاروں صفات جو سورہ فاتحہ میں بیان کی گئی ہیں تنزلی صفات ہیں ۔ کیونکہ یہ بندوں سے تعلق پر دلالت کرتی ہیں ۔ یعنی وہ رَبُّ العلمين تبھی ہو سکتا تھا جب عالم میں ا تھا جب عالم موجود ہو اور اس کی وہ ربوبیت کرے ۔ کسی ایسے شخص کے متعلق جس کا کوئی بیٹا نہ ہو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنی اولاد کی نہایت اچھی پرورش کرتا ہے۔ پرورش کا لفظ اُسی وقت استعمال استعمال کیا جائے گا جب اُس کے بچے اور دیگر عزیز ہوں گے۔ پس رَبُّ العالمین ایک تنزلی صفت ہے یعنی صفات الہیہ کی وہ جہت ہے جو مخلوق سے تعلق رکھتی ہے ۔ اسی طرح الرحمن ہونا بھی بندوں کے وجود کو ظاہر کرتا ہے۔ کیونکہ اگر ایسی مخلوق نہ ہو جس کو ضروریات لگی ہوئی ہوں تو اس کی ضرورت پورا کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ اور یہ صفت لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ کی اس جہت کا ظہور ہے جو بندوں سے متعلق ہے۔ پس الرحمن بھی تنزلی صفات میں سے ہے ۔ پھر رحیم جس کے معنے اچھے کاموں کا بدلہ دینے اور بار بار بدلہ دیتے چلے جانے کے ہیں جس کا نتیجہ انسان کیلئے ابدی زندگی ہے، یہ بھی تنزل صفت ہے کیونکہ اس صفت کے ماتحت ضروری تھا کہ دنیا میں نیک کام کرنے والے لوگ ہوں ۔ ورنہ خدا تعالیٰ تو ابد سے ہے اور وہ اپنی ذات میں قائم ہے ۔ اُس کا کسی کو قائم رکھنا اور اسے ہمیشہ کی زندگی دینا تبھی ظاہر ہو سکتا ہے جب ایسے لوگ ہوں جو فنا ہو جانے والے ہوں لیکن باوجود ان کے فانی ہونے کے وہ ان کو قائم رکھے اور اس طرح الرحیم کہلائے ۔ پس الرحیم کی صفت بھی الحق کے تابع ہے اور تنزلی صفات میں سے ہے ۔ یعنی وہ صفات جو مخلوق کے متعلق ہیں ۔ اسی طرح ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہونا بھی بتاتا ہے کہ کوئی مخلوق ہو جس میں الہی قانون جاری کیا جائے اور پھر اس قانون کے مطابق اس سے حساب لیا جائے اور پھر نیک کاموں پر جزاء اور بُرے کاموں پر سزا دی جائے ۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنی ذات کے اندر ہی فیصلے کرتا رہتا ہے۔ فیصلہ تو بہر حال دوسروں کے معاملات کا ہی ہوتا ہے۔ پس ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ بھی تنزلی