خطبات محمود (جلد 18) — Page 496
خطبات محمود ۴۹۶ سال ۱۹۳۷ء کر کے برکت حاصل کرے۔ لالہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایسی عقیدت اور تعلق ظاہر کیا کرتے تھے کہ حضور کو اگر کبھی ضرورت پیش آتی تو ان سے قرض منگوالیا کرتے تھے اور احمدیوں سے قرض مانگتے ہوئے حجاب کرتے تھے ۔ یہ مثال ایک نمونہ ہے اور بھی ہزاروں مثالیں ہیں مگر یہ چھوٹا سا واقعہ ہے جو بہت نمایاں ہے ۔ تو یہ مکہ والوں کی بیوقوفی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو نکال کر انہوں نے مکہ کو پاک صلى الله عليه کر لیا ہے۔ دراصل انہوں نے پاک نہیں کیا تھا بلکہ مکہ کیلئے خطرہ پیدا کرلیا تھا اور محمد رسل اللہ ﷺ کی پاکیزگی کو مکہ سے نکال کر انہوں نے اپنے آپ کو خطرات میں ڈال دیا تھا۔ لیکن بہر حال جس چیز کو وہ کامیابی سمجھتے تھے وہ انہوں نے بظاہر حاصل کر لی تھی۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو شخص محنت اور سعی کرے وہ ضروری گلی یا جزوی کامیابی حاصل کر لیتا ہے اور مومن تو اگر کوشش کرے تو بہت ہی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ مکہ والوں کا مقصد غلط تھا مگر وہ اس میں لگ گئے ۔ اس لئے عارضی کامیابی کی خوشی انہیں بھی حاصل ہوگئی ۔ اس کے مقابل دیکھ لو آخری زمانہ کے مسلمانوں کا مقصد کتنا عظیم الشان تھا ۔ یعنی یہ کہ قرآن کریم کی صداقت ظاہر ہوا اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت ثابت ہو۔ مگر انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی بلکہ ان کی بادشاہتیں مٹ گئیں ، جتھے ٹوٹ گئے ، وہ علم سے کورے ہو گئے اور انہیں ہر میدان میں شکست پر شکست ہوئی حالانکہ ان کا مقصد کیسا اعلیٰ تھا۔ ان کے مقابل پر دیکھو عیسائیوں کا مقصد کتنا غلط تھا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ اس دعویٰ پر جو عیسائی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہے آسمان پھٹ جائے ۔ عیسائی ایسے خطر ناک مقصد کیلئے کھڑے تھے اور مسلمان اس مقصد کیلئے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا پیدا ہی اس مقصد کیلئے کی گئی ہے۔ چنانچہ حدیث قدسی ہے لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک و اگر محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود نہ ہوتا تو دنیا پیدا ہی نہ کی جاتی ۔ اب دیکھو ایک طرف تو ایسا مقصد تھا جس کیلئے دنیا پیدا کی گئی اور دوسری طرف ایسا جس سے دنیا تباہ ہو جائے ۔ مگر باوجود اس کے مسلمان ہارتے گئے اور عیسائی جیتے گئے ۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ گو مسلمانوں کا مقصد نیک تھا مگر وہ اس مقصد کیلئے جدو جہد چھوڑ بیٹھے تھے اور دوسری طرف عیسائیوں کا مقصد بُرا تھا مگر وہ اس کیلئے سعی اور جد و جہد کر رہے تھے ۔ عیسائی شرک کی تائید میں کھڑے ہوئے اور اپنا سب کچھ اس کیلئے قربان کر دیا اور مسلمان توحید کی تائید کیلئے کھڑے ہوئے مگر اسے فراموش کر کے اور