خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 463

خطبات محمود ۴۶۳ سال ۱۹۳۷ء والوں کے اس قسم کے اقرار میں نے پڑھے ہیں کہ جب وہ پہلے جنگ میں شامل ہوئے تو انہوں نے اپنے دل کی حالت کو دیکھ کر محسوس کیا کہ وہ بزدل ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ پہلے انہیں ایسے حالات کی عادت نہ تھی لیکن کچھ عرصہ ان حالات میں سے گزرے تو طبیعت میں جرات پیدا ہوگئی ۔ تو یہ بہادری بھی ایک حد تک مشق کا نتیجہ ہوتی ہے۔ سپاہی جنگ میں جاتا ہے اور اس کا دل مضبوط ہو جاتا ہے ۔ تم نہیں جاتے اس لئے تمہارا دل ویسا مضبوط نہیں۔ ہم میں سے بہت اگر کسی کیلئے چھ ماہ قید کی سزا کا حکم سن لیں تو ان کا دل دھڑکنے لگتا ہے او اس روز کھانا کھانے کو دل نہیں چاہتا۔ مگر مجسٹریٹ ہر روز سزائیں دیتا ہے بلکہ ایک دن میں مجموعی طور پر دس دس اور بیس بیس سال کی سزائیں دے دیتا ہے اور پھر گھر جا کر اطمینان سے کھانا کھاتا ہے اور ساتھ ساتھ لیکچر بھی دیتا جاتا ہے کہ یہ چیز اچھی پکی ہے اور یہ خراب ہے ۔ اس سے بڑھ کر جلا دوں کا حال ہے۔ بعض دفعہ تو جلا دمرنے والے کو بعض خاص حالتوں میں دیکھ کر ہنس پڑتا ہے کہ اُس کا منہ یوں ہو گیا اور ٹانگیں یوں ہو گئیں حالانکہ دوسرے اُس وقت رو رہے ہوتے ہیں مگر جلا د میں جس ہی نہیں ہوتی ۔ پس عادات انسان کو کچھ کا کچھ بنا دیتی ہیں ۔ ۔ ہمیں چونکہ امن کی عادت ہے اس لئے ہماری جماعت میں وہ قربانیاں جو پہلے انبیاء کی جماعتیں کرتی تھیں بالکل عجیب معلوم ہوتی ہیں ۔ گویا امن ہمارے لئے جہاں ترقی کا موجب ہے وہاں تنزل کا باعث بھی ہے۔ امن ہونے کی وجہ سے تبلیغ میں بے شک زیادتی ہے جو پہلے زمانوں میں حاصل نہ تھی مگر قربانیوں میں کمی ہے جس سے پہلے لوگ بچے ہوئے تھے ۔ جس شخص کو یہ یقین ہو کہ مال جو میرے پاس ہے دراصل میرا نہیں ممکن ہے اسے کل ہی ڈاکو لے جائیں یا حکومت ہی چھین لے وہ اگر نیک ہوگا تو خیال کرے گا کہ کیوں نہ اسے خدا تعالیٰ کے رستہ میں ہی دے دوں اور پہلے زمانوں میں لوگوں کی یہی کیفیت ہوتی تھی ۔ مگر آج چونکہ یقین ہے کہ حکومت یونہی نہیں چھینے گی ، حکومت اگر لے گی تو ٹیکسوں وغیرہ کے ذریعہ سے ہی لے گی ۔ پھر ٹیکس ہر ایک پر نہیں لگے گا اور جس پر لگے گا ایک مقررہ شرح سے لگے گا اور ڈاکوؤں وغیرہ کے چھین کر لے جانے کا امکان بھی بہت کم ہے اس لئے ہر شخص سمجھتا ہے کہ یہ میرا مال ہے اور اس وجہ سے اس کی محبت اسے زیادہ ہوتی ہے ۔ غرض پہلے زمانوں میں مال کے غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے مال کو خدا کا سمجھتے تھے مگر