خطبات محمود (جلد 18) — Page 457
خطبات محمود ۴۵۷ سال ۱۹۳۷ء نیچا کریں اور انہیں لوگوں کی نگاہ میں ذلیل کریں ۔ مگر خدا کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ ان کو اونچا کرے اور جب خدا انہیں عزت دینا چاہتا ہے تو پھر کسی کے الزام لگانے سے کیا بنتا ہے ۔ اب دیکھو سورہ نور کے شروع سے لے کر اس کے آخر تک کس طرح ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے پہلے اس الزام کا ذکر کیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگایا گیا تھا اور چونکہ حضرت عائشہ پر الزام کے صلى الله صلى الله لگانے کی اصل غرض یہ تھی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ذلیل کیا جائے اور رسول کریم ﷺ سے ان جو تعلقات ہیں وہ بگڑ جائیں اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی نگاہ میں بھی ان کی عزت کم ہو جائے اور رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد وہ خلیفہ نہ ہوسکیں ۔ کیونکہ عبداللہ بن ابی بن سلول یہ بھانپ گیا تھا کہ رسول کریم ﷺ کے بعد مسلمانوں کی نگاہ اگر کسی پر اٹھنی ہے تو وہ ابو بکر ہی ہے اور اگر ابوبکر کے ذریعہ خلافت قائم ہوگئی تو عبداللہ بن ابی بن سلول کی بادشاہی کے خواب کے خواب کبھی پورے نہ ہوں گے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس الزام کے ذکر کے معاً بعد خلافت کا ذکر کیا اور فرمایا کہ خلافت بادشاہت نہیں ہے ۔ وہ تو نور الہی کے قائم رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس لئے اس کا قیام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے ۔ اس کا ضائع ہونا تو نور نبوت اور نورالوہیت کا ضائع ہونا ہے ۔ پس وہ اس نور کو ضرور قائم کرے گا اور نبوت کے بعد بادشاہت ہرگز قائم نہیں ہونے دے گا اور جسے چاہے گا خلیفہ بنائے گا بلکہ وہ وعدہ کرتا ہے کہ مسلمانوں سے ایک نہیں متعد دلوگوں کو خلافت پر قائم کر کے نور کے زمانہ کو لمبا کر دے گا ۔ یہ مضمون ایسا ہی ہے جیسے کہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل فرمایا کرتے تھے کہ خلافت کے المسيح خلافت کیسری کی دکان کا سوڈا واٹر نہیں کہ جس کا جی چاہے پی لے۔ اسی طرح فرمایا تم اگر الزام لگانا چاہتے ہو تو بے شک لگاؤ نہ تم خلافت کو مٹا سکتے ہو نہ ابوبکر کو خلافت سے محروم کر سکتے ہو۔ کیونکہ خلافت ایک نور ہے وہ نور اللہ کے ظہور کا ایک ذریعہ ہے اس کو انسان اپنی تدبیروں سے کہاں مٹا سکتا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ اسی طرح خلافت کا یہ نور چند اور گھروں میں بھی پایا جاتا ہے اور کوئی انسان اپنی کوششوں اور اپنے مکروں روں سے اس نور کے ظہور کو روک نہیں سکتا ۔ اب دیکھو اس تشریح کے ساتھ سورہ نور کی تمام آیتوں کا آپس میں کس طرح ربط قائم ہو جاتا ہے اور کس طرح پہلے چار رکوعوں کے مضمون کا اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ اور اس کے مَا بَعُد کی آیتوں کے ساتھ ربط قائم ہو جاتا ہے اور ساری سورۃ کے مطالب آئینہ کی طرح سامنے آجاتے ہیں ۔ پس خلافت ایک الہی سنت ہے کوئی نہیں جو اس میں روک بن سکے ۔ وہ خدا تعالیٰ کے نور کے