خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 421

خطبات محمود ۴۲۱ سال ۱۹۳۷ء انتشار پیدا ہو اگر بغیر اس کے کہ جماعت یا اس کے نظام یا اس کے مرکزی دفاتر میں کوئی خلل پیدا ہوتا جماعت پھر اتحاد کے نقطہ پر جمع ہوگئی اور ہر قسم کا انتشار دور ہو گیا۔ پس ایسے عارضی اور وقتی خلل کے سوا کوئی ایسا تغیر نبیوں کی جماعتوں میں پیدا نہیں ہوتا کہ جس کو کسی عظیم الشان جہاد یا کوشش کے ساتھ دور کرنا پڑے۔ اس خلل اور اس خلل میں جو ناممکن ہوتا ہے ایسا ہی فرق ہے کہ جیسے کسی شخص کو نزول الماء کی بیماری ہو جائے اور کئی سال اندھا رہنے کے بعد آپریشن کے ذریعہ سے اُس کی نظر درست ہو اور ایک ایسا شخص ہو جو یکدم اندھیرے سے روشنی میں آئے یا روشنی سے نکل کر اندھیرے میں جائے تو اس کی بینائی میں بھی فرق پڑتا ہے۔ اندھیرے میں سے روشنی میں جا کر وہ اپنی آنکھوں کو چندھیائی ہوئی پاتا ہے اور روشنی سے اندھیرے میں جا کر اپنی پتلیوں کو گھلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ یہ بیماری نہیں ، یہ صدمہ ہوتا ہے جو فوراً ہی زائل ہو کر پھر بینائی اپنی اصل جگہ پر آجاتی ہے ۔ اس حالت کو کبھی کوئی ڈاکٹر بیماری نہیں کہے گا لیکن نزول الماء کو ہر شخص بیماری قرار دے گا۔ پس اس قسم کے عارضی تعطل کو دلیل قرار دینا ویسی ہی حماقت ہوگی جیسا کوئی شخص نزول الماء کی حالت کو صحت قرار دینے کیلئے اس تندرست آنکھوں والے کو پیش کرے جو اندھیرے سے روشنی میں آکر ایک منٹ کیلئے گھبرا گیا ہو۔ پس اس قسم کی دلیلیں اس سنت اللہ پر اعتراض کرنے والوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔ جو چیز نہیں ہوتی اور نہیں ہو سکتی وہ یہ ہے کہ جماعت میں کوئی ایسی بیماری پیدا ہو جائے جو اسے جادۂ اعتدال سے ہٹا دے اور جس کو دور کرنے کیلئے ایک لمبی محنت اور ایک لمبی کوشش کی ضرورت ہو ۔ پھر بعض لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم جو معترض ہیں ، ہمارے ذریعہ سے ماموروں کی روح زندہ ہے اس لئے سنت اللہ پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا ۔ مگر یہ اعتراض بھی نہایت ہی باطل اور غلط ہے ۔ لئے اللہ پر ہوسکتا۔ کیونکہ کوئی کوئی نیک مرد تو فیح اعوج کے زمانہ میں بھی ہوتا رہا ہے ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے روتو ۔ بعد تین صدیوں تک ہدایت رہے گی اور اس کے بعد فیح اعوج کا زمانہ ہوگا۔ اب دیکھو کہ کیا فیح اعوج میں کوئی نیک نہیں ہوتا تھا ؟ یہ سید عبد القادر جیلانی ، یہ شہاب الدین صاحب سہروردی ، یہ شبلی اور جنید اور تھا؟ عبدالقادرجہ غزالی اور عبد القادر جرجانی ، یہ معین الدین صاحب چشتی ، یہ محی الدین صاحب ابن عربی ، نظام الدین صاحب اولیاء اور فرید الدین صاحب شکر گنج اور سید احمد رسید احمد صاحب سر ہندی اور سید احمد صاحب بریلوی اور ہزاروں صوفیاء اور اولیاء اور علماء سب فیج اعوج کے زمانہ میں ہی گزرے ہیں ۔ پھر وجہ کیا ہے کہ