خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 399

خطبات محمود ۳۹۹ سال ۱۹۳۷ء میری بیوقوفی تھی جو میں نے کہا کہ تو نے میری دعا نہیں سنی ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب میں یہ کہہ رہا تھا کہ تو نے میری دعا نہیں سنی ، اُس وقت تو نے میری دعاسُن لی تھی ۔ کیونکہ اس کا نہ ملنا ہی میرے لئے مفید تھا اور اگر مل جاتا تو جو اس شخص کا انجام ہو ا وہ میرا ہوتا۔ تو کبھی انعام کا نہ ملنا ہی انسانی بہتری کا موجب ہوتا ہے اور کبھی دُنیوی نعماء اور ترقیات ہی بے ایمانی کفر اور ارتداد کا موجب ہو جاتی ہیں ۔ تو یہ دو چیزں ہیں جن سے ارتداد پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں ان دونوں باتوں کا ذکر کیا ہے اور ان وساوس کا جواب بھی دیا ہے۔ لیکن پیشتر اس کے کہ میں وہ جواب بتاؤں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ دعا مسلمانوں کو خاص طور پر سکھائی گئی ہے ۔ کیا پہلی قوموں کو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا کی ضرورت نہیں تھی ؟ کیا وجہ ہے کہ نوح کی قوم کو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا نہیں سکھائی گئی اور کیا وجہ ہے کہ ابراہیم کے پیروؤں کو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا نہیں سکھائی گئی ۔ کیا وہ صراط کیا وہ صراط مستقیم کے مختار مستقیم کے محتاج نہیں تھے یا صراط مستقیم کا ملنا کوئی ایسی اہم بات تھی جس کا تکمیل دین سے تعلق تھا یا کیا دماغ ان کا اس قابل نہ تھا کہ صراط مستقیم کو سمجھتا ؟ اللہ تعالیٰ تو خود فرماتا ہے هَدَيْنَهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيماتے کہ ہم نے ان سب کو صراط مستقیم کی ہدایت دی ۔ پس جب انہیں صراط مستقیم کا ملنا قرآن کریم سے ثابت ہے تو معلوم ہوا کہ وہ صراط مستقیم کے اہل تھے اور جب اس کے اہل تھے تو یہ دعا انہیں کیوں نہ سکھائی گئی ۔ پھر موسیٰ کے تابعین کو یہ دعا کیوں نہ سکھائی گئی کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ اور پھر عیسی کے حواریوں کو یہ دعا کیوں نہ سکھائی گئی ۔ صرف محمد ﷺ کے متبعین کو یہ دعا کیوں سکھائی گئی اور انہیں کیوں کہا گیا کہ یہ دعا مانگو اور مانگو بھی اتنی کثرت سے کہ تمہاری پانچ نمازوں کی کوئی رکعت ایسی نہ ہو جس میں صلى الله صلى الله مت سے تمہارے منہ سے یہ دعا نہ نکلے ۔ اس کی آخر کوئی حکمت ہونی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کام حکمت خالی نہیں ہوتے ۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ علیم ہی ہی ا۔ ایسے وجود تھے جن کے کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وہ خاتم النبین ہیں یعنی ایسے کمالات ہم نے آپ کو بخش دیئے ہیں کہ اب کوئی شخص براہ راست مقام نبوت تک نہیں پہنچ سکتا بلکہ ہر شخص کو آپ کی غلامی اور اطاعت کرنی پڑے گی ۔ اب ہر وہ شخص جس کے دل میں خدا تعالیٰ کے قرب کی خواہش ہوا سے پہلی منزل پر ایک دھکا لگتا ہے اور اس کے دل کو ایک چوٹ لگتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ اچھا نبی آیا کہ جس نے آتے ہی ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کے