خطبات محمود (جلد 18) — Page 390
خطبات محمود ۳۹۰ سال ۱۹۳۷ء کوئی ہمیں مولوی کہہ دے ۔ تو ظاہری علوم بالکل اور چیز ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ ظاہری علوم والے روحانیت میں بھی کوئی درجہ رکھتے ہوں ۔ قرآن کریم نے بے شک بعض لوگوں کو علماء قرار دیا ہے مگر اس نے ان ہی کو علماء قرار دیا ہے جو اپنے اندر خوف خدا رکھتے ہوں ۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ کے کہ اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی خشیت رکھنے والے علماء ہیں اور جو اس کا خوف نہیں رکھتے وہ جاہل ہیں ۔ گویا رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جس قدر علماء کہلانے والے تھے ان کو قرآن کریم نے جاہل قرار دیا اور جس قدر لوگوں کی نگاہ میں جاہل سمجھنے جانے والے تھے اور رسول کریم علی پر وہ ایمان لے آئے تھے ا تھے انہیں عالم الم قرار دیا اور فرمایا عالم ابو بکر ہے ، عالم عمر - عمر ہے، عالم عثمان ہے، عالم علی ہے، عالم طلحہ ہے ، عالم زبیر ہے اور عالم اور صحابہ نہیں مثلاً بلال وغیرہ ۔ مگر یہ جو عرب کے بڑے بڑے کا ہن ہیں یہ سب جاہل ہیں عالم نہیں۔ تو ظاہری علوم کوئی چیز نہیں اصل چیز باطنی علوم ہیں اور جب وہ کسی کو حاصل ہو جائیں تو اُسی کی عزت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں قائم کی جاتی ہے اور انہی علوم کی کوئی قیمت ہوتی ہے۔ صلى الله مولوی عبداللہ صاحب غزنوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے قریب زمانہ میں ایک مشہور بزرگ گزرے ہیں ان کا ایک لطیفہ ہے جس سے اُن کی عزت دل میں پیدا ہوتی ہے ۔ کہتے ہیں کہ امرتسر میں ایک دفعہ لوگوں نے مولوی عبداللہ صاحب غزنوی سے مقابلہ کرنے کیلئے ایک بڑا بھاری عالم تیار کیا جو علوم مروجہ میں خوب ماہر تھا۔ اس کے بعد وہ لوگ مولوی عبداللہ صاحب کے پاس گئے اور انہیں کہا کہ آپ مجلس میں چلیے ، آپ کی فلاں عالم سے بحث کرانی ہے۔ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی بے شک عالم تھے مگر ایسے نہیں کہ انہوں نے صرف ونحو کی گردانیں رٹی ہوئی ہوں ۔ وہ ایک صوفی منش بزرگ تھے مگر لوگ چاہتے تھے کہ عربی کی ترکیبوں میں لاکر انہیں گرائیں اور ذلیل کریں ۔ خیر وہ مجلس میں آگئے ۔ لوگوں نے کہا مولوی صاحب یہ فلاں عالم صاحب آئے ہیں کیا یہ آپ سے کوئی سوال کریں؟ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی یہ عادت تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی عادت تھی کہ جب خاموش ہوتے تو سر نیچے ڈال کر یا سر کو ہاتھ کا سہارا دے کر بیٹھے رہتے اور ذکر الہی کرنے والے بالعموم ایسا ہی کیا کرتے ہیں ۔ جب انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ آپ سے کوئی سوال کریں؟ تو مولوی عبداللہ صاحب غزنوی نے فرمایا اگر نیت بخیر باشد یعنی اگر نیت نیک ہو تو بیشک وہ سوال