خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 385

خطبات محمود ۳۸۵ سال ۱۹۳۷ء عطا فرما - تو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ سے مراد موجودہ بیماریوں کے دور ہونے کے لئے دعا نہیں بلکہ جب ایمان کامل ہو جائے تو اس کے بعد پیدا ہونے والی خرابیوں کے ازالہ کیلئے یہ دعا ہے کہ الہی ! ہمیں ایمان تو حاصل ہو گیا مگر اب ایسا فضل کر کہ ہمارا ایمان کبھی زائل نہ ہوا اور ہم مرتے دم تک اسی پر قائم رہیں ۔ غرض غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ استثناء ہے ۔ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے کہ بعض منعم علیہ ہو کر مغضوب ہو جاتے ہیں اور بعض منعم علیہ ہو کر خال ہو جاتے ہیں اور دعا یہ سکھائی گئی ہے کہ الہی ! جب ہم منعم علیہ گروہ میں شامل ہو جائیں تو پھر ہم منعم علیہ ہی رہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ کسی ٹھوکر کی وجہ سے مغضوب اور ضالین میں شامل ہو جائیں ۔ اس یہ دعا ہے جو ہم ہمیشہ مانگتے رہتے ہیں اور جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ عام مومن تو کجا منعم علیہ شخص بھی مغضوب اور ضال ہونے کے خطرہ میں ہر و رہ میں ہر وقت گھرا ہوا ہے اور بعض دفعہ انسان روحانی لحاظ سے بہت بلند مقام پر پہنچ کر بھی ایسا گرتا ہے کہ اس کے اندر ایمان کا شائبہ تک نہیں رہ جاتا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لدھیانہ کے ایک شخص کے متعلق جو آپ سے نہایت گہری ارادت ظاہر کرتا تھا ایک دفعہ ایک الہام ہوا جس میں اس کی روحانی طاقتوں کی بہت بڑی تعریف کی گئی تھی ۔ مگر بعد میں وہ مرتد ہو گیا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ اس کے متعلق تو الہام الہی میں تعریف آچکی تھی پھر یہ کیوں مرتد ہو گیا۔ تو آپ نے فرمایا بے شک الہام میں ا کی تعریف موجود تھی اور اللہ تعالیٰ کا کلام بتا رہا تھا کہ وہ اعلیٰ روحانی طاقتیں رکھتا تھا۔ لیکن جب اس نے ان طاقتوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور اس میں کبر اور غرور پیدا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نازل ہو گیا اور وہ مرتد ہو گیا ۔ تو سورہ فاتحہ کی دعا ہمہ سورہ فاتحہ کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ نفاق اور کہ حاق اور کفریہ دو چیزیں انسان کے ساتھ ہر وقت لگی ہوئی ہیں اور یہ دونوں مرضیں منعم علیہ گروہ میں شامل ہونے کے بعد انسان پر حملہ آور ہوتی رہتی ہیں ۔ اور ان کے پیدا ہونے کے دو سبب ہوتے ہیں۔ ایک مرض تو اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں نازل ہوتی ہیں۔ اس کے فضل اسے نواز نا شروع کرتے ہیں اور وہ ایمان میں اعلیٰ درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن بجائے اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکر گزار ہونے کے وہ تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور کسی وقت خدا تعالیٰ کی یا اس کے پیاروں اور مقبول بندوں کی کوئی ایسی گستاخی کر بیٹھتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ تمام انعامات سے محروم کر دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آجاتا ہے ۔ گویا یہ اللہ تعالیٰ