خطبات محمود (جلد 18) — Page 364
خطبات محمود ۳۶۴ سال ۱۹۳۷ء متعلق أَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَلَمِینَ کے الفاظ پڑھ کر کیوں اس حقیقت کو نہ پہنچ جاتے کہ جب کسی کے متعلق یہ کہا جاتا کہ بعد از خدا اُس کا درجہ ہے تو اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ اپنے زمانہ کے لوگوں پر وہ فضیلت رکھتا ہے، نہ یہ کہ وہ رسول کریم ﷺ سے بھی درجہ میں بڑا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں ہم وہ ہیں جو رسول کریم ﷺ کے ایک ادنیٰ سے ادنی ارشاد پر اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ اور یا تو آج سے تیرہ سو سال پہلے صحابہ نے یہ کہا تھا کہ يَا رَسُولَ الله! آپ ہمیں حکم دیجئے ، ہم سمندر میں اپنے گھوڑے ڈالنے کیلئے تیار ہیں " اور ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے گا اور یا یہی فقرے آج ہمارے ہیں ۔ آج ہم ہی ہیں جو رسول کا ہیں جو رسول کریم ﷺ کا جھنڈا دنیا کے ۱۵ صلى الله ۔ عروسه کونے کونے میں گاڑ رہے ہیں ، آج ہم ہی ہیں جو دین کی اشاعت کر رہے ہیں ، آج ہم ہی ہیں جو قرآن کریم کی خدمت کر رہے ہیں اور آج ہم ہی ہیں جو اسلام کے فضائل اور محاسن دنیا پر ظاہر کر رہے ہیں ۔ مگر یہ غافل اور سوئے ہوئے افیونی کروٹ بدلتے ہیں اور آنکھیں کھولے بغیر کہنے لگ جاتے ہیں کہ احمد یوں نے رسول کریم ﷺ کی ہتک کر دی ۔ حالانکہ یہ قرآن کریم اور اس کی تعلیم سے غافل ہو کر لحافوں میں لیٹے ہوئے پڑے ہیں اور ہم پر ایسی حالت میں اعتراض کر رہے ہیں جب کہ ہمارے سینے دشمنانِ کہ محمد ﷺ کی حفاظت کیلئے ہم ان کے اعداء کے نیزوں کو تنے ہوئے ہیں اور جب کہ محمد علی اسلام کے مقابل پر تنے اپنے جسموں پر روک رہے ہیں ۔ صلى الله مدنیت: شہریت - شہری پن در ثمین فارسی صفحه ۱۱۲ - شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ ال عمران : ۳۲ ال عمران: ۴۳ الفضل ۲۷ اگست ۱۹۳۷ء ) ۵ ترمذى كتاب المناقب باب ما جاء في فضل فاطمة میں یہ الفاظ ہیں "أَخْبَرَ نِی أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ البقرة: ۴۸ ك ال عمران: ااا