خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 356

خطبات محمود ۳۵۶ سال ۱۹۳۷ء حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُوادَ كُلُّ أُولئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولاً اے کہ جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس میں دخل نہ دیا کرو۔ جو شخص قرآن کریم کو جانتا ہی نہیں اور جس نے رسول کریم ﷺ کے کلام پر کبھی غور ہی نہیں کیا ، وہ اگر بغیر سوچے سمجھے اعتراض کر دیتا ہے تو اس کا اعتراض معاف بھی کیا جا سکتا ہے ۔ مگر جو قرآن کریم پر ایمان صلى الله لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کی باتوں کو پس پشت ڈال دیتا ہے وہ معذور نہیں قرار دیا جا سکتا۔ پھر میں کہتا ہوں کہ اگر ان لوگوں نے قرآن پر کبھی غور نہیں کیا تھا یا اگر ان لوگوں نے رسول کریم ﷺ کے کلام پر کبھی غور نہیں کیا تھا تو کم از کم انہیں انسانوں کے کلام پر ہی غور کرنا چاہئے تھا اور دیکھنا چاہئے تھا کہ کیا روزمرہ کی گفتگو میں اس قسم کے الفاظ استعمال نہیں کئے جا سکتے۔ تم چلے جاؤ لا ہور میں اور لوگوں سے دریافت کرو کہ سب ۔ لہ سب سے بڑا پہلوان کون سا ہے ۔ وہ کہیں گے سب ۔ سب سے بڑا پہلوان گاما ہے۔ اب کیا جب کوئی شخص یہ کہے کہ سب سے بڑا پہلوان گاما ہے تو اس سے یہ بحث شروع کر دینی چاہئے کہ سب سے بڑا پہلوان تو رستم تھا تم گاما کو سب سے بڑا پہلوان کیوں قرار دیتے ہو۔ یا سب سے بڑا پہلوان تو غلام تھا تم گاما کو کیوں بڑا کہتے ہو ۔ اگر کوئی شخص ایسی بحث کرے تو ساری دنیا اسے احمق قرار دے گی اور کہے گی کہ یہاں رستم اور گاما کا مقابلہ کون سا ہورہا ہے یہاں تو یہ ذکر ہے کہ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا پہلوان کون سا ہے۔ غرض تم ساری دنیا کا چکر لگاؤ ، ساری دنیا کا نہ سہی تم ہندوستان کا ہی چکر لگا کر دیکھ لو تمہیں گلیوں میں اور بازاروں میں، مدرسوں اور خانقاہوں میں ، چھوٹوں اور بڑوں میں غرض ہر جگہ اور ہر شہر میں اس قسم کے فقرات بولتے ہوئے لوگ نظر آئیں گے ۔ وہ کہیں گے سے بڑا ہونے سے مراد وہ مراد وہ کبھی یہ نہیں لیں گے کہ وہ پہلوں اور ما سب سے بڑا ۔ سب بڑا ہے اور سب فلاں شخص پچھلوں۔ اں سب سے بڑا بڑا ہے ہے بلکہ بلکہ سب سب ۔ سے بڑا ہونے سے یہ یہ مراد مراد لیں گے کہ وہ وہ موجودہ موجودہ ز زمانہ میں سب سے وو بڑا ہے یا ایک خاص دائرہ میں سب سے بڑا بڑا ہے ہے۔ ۔ تم چلے جاؤ عدالتوں عدالتوں میں تمہیں روزانہ اس قسم قسم ۔ کے نظارے دکھائی دیں گے کہ مجسٹریٹ کے سامنے مقدمہ پیش ہو رہا ہے اور ایک غریب شخص جس کا مقدمہ عدالت کے سامنے ہے وہ مجسٹریٹ کو مخاطب : ہوتے ہوئے کہہ رہا ہے خدا دے ہیٹاں ساڈے سیں ہی ہو، یعنی خدا کے نیچے اب آپ ہی ہمارا کام کرنے والے ہیں ۔ روزانہ زمیندار اور پیشہ ور اس قسم کے فقرات استعمال کرتے ہیں مگر کبھی انہیں کوئی شخص یہ نہیں کہتا کہ تم دہر یہ ہو گئے یا رسول اللہ ﷺ کی